تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 348

سورۃ لہب کا سبب نزول اس سورۃ کے سبب نزول کے متعلق مختلف روایات تفاسیر میں بیان ہوئی ہیں۔سب سے پہلی روایت یہ آتی ہے:۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکْتُمُ اَمْرَہٗ فِیْ اَوَّلِ الْمَبْعَثِ وَیُصَلِّی فِیْ شِعَابِ مَکَّۃَ ثَلَاثَ سِنِیْنَ اِلیٰ اَنْ نَزَلَ قَوْلُہٗ تَعَالیٰ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ فَصَعِدَالصَّفَا وَنَادٰی یَااٰلَ غَالِبٍ فَــخَـرَجَتْ اِلَیہِ غَــالِــبٌ مِّـنَ الْـمَـــسْـــجِـــدِ فَــقَــالَ اَ بُـــوْلَھَبٍ ھٰــذِہِ غَــالِبٌ قَدْ اَتَـتْـکَ فَـمَــا عِــنْـدَکَ ثُمَّ نَـادٰی یَا اٰلَ لُــؤَیٍّ فَــرَجَــعَ مَــنْ لَّــمْ یَــکُــنْ مِّــنْ لُــؤَیٍّ فَقَالَ اَ بُــوْ لَــھَــبٍ ھٰــذِہٖ لُـــؤَیٌّ قَــدْ اَتَتْکَ فَـمَا عِنْدَکَ ثُمَّ قَالَ یَا اٰلَ مُـــرَّۃَ فَـــرَجَـــعَ مَــنْ لَّــمْ یَــکُــنْ مِّــنْ مُّــرَّۃَ فَــقَــالَ اَ بُــوْلَــھَــبٍ ھٰــذِہٖ مُــرَّۃُ قَـدْ اَتَتْکَ فَـمَا عِنْدَکَ ثُمَّ قَالَ یَا اٰلَ کِلَابٍ ثُمّ قَالَ بَعْدَہٗ یَا اٰلَ قُصَیٍّ فَقَالَ اَبُوْ لَھَبٍ ھٰذِہٖ قُصَیٌّ قَد اَتَتْکَ فَـمَا عِنْدَکَ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ اَمَرَنِی اَنْ اُنْذِرَعَشِیْرَتِیَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ اَنْتُمُ الْاَقْرَبُوْنَ۔اِعْلَمُوْا اَنِّی لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِّنَ الدُّنْیَا حَظًّا وَّلَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ نَصِیْبًا اِلَّا اَنْ تَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ فَاَشْھَدُ بِـھَا لَکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ فَقَالَ اَبُوْلَھَبٍ عِنْدَ ذٰلِکَ تَبًّا لَکَ اَلِھٰذَا دَعَوْتَنَا فَنَزَلَتِ السُّوْرَۃُ۔( التفسیر الکبیر للامام رازی سورۃ المسد) یعنی حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ بعثت کے ابتدائی زمانہ میں یعنی تین سال تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ زور سے تبلیغ نہیں فرماتے تھے اور مکّہ کی مختلف گھاٹیوں میں نماز اداکر لیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو انذار کرو۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ صفا پر چڑھ گئے اور مختلف قبائل کو بلانا شروع کیا۔سب سے پہلے آل غالب کو بلایا اور وہ مسجد حرام سے نکل کر آگئے۔ابو لہب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا کہ آل غالب تو آگئے ہیں اب مقصود بیان کریں۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو لہب کی بات پر توجہ نہ دی اور لویّ قبیلہ کے افراد کو پکارا۔اس پر وہ بھی پہنچ گئے پھر ابولہب نے کہا کہ اب تو لؤیّ قبیلہ بھی آگیا۔اب آپ بتائیں کہ کیاکہنا چاہتے ہیں۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ دی اور آل مُرّہ کو پکارا۔چنانچہ وہ بھی پہنچ گئے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آل کلاب اور آل قصیّ کو بلایا۔جب سب آگئے تو آپ نے ان سب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے اقرباء کو آنے والے عذاب سے خبردار کروں۔سوتم میرے اقرباء ہو اور تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ میں تمہارے لئے دنیا اور آخرت سے کسی چیز کا ضامن نہیں ہو سکتا۔سوائے اس کے کہ تم خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرو۔اور لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہو۔اس پر ابولہب غصہ میں آگیا اور اس نے بڑے جوش