تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 347

غالب ہو جائے گا بلکہ اگر کسی نے اسلام کومٹانے کے لئے اس پر حملہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس حملہ آورکو تباہ کر دے گا نہ صرف اس کو بلکہ ان کو بھی جو اس حملہ آور کی تائید میں ہوں گے۔ایسے لوگ جو اسلام کے خلاف حملہ آور ہونے والے تھے ان کو اس سورۃ میں ابو لہب کے نام سے پکارا ہے۔اور ان کو جو ایسے لوگوں کی تائید میں ہوں گے بیوی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔گویا ابو لہب سے مراد ائمہ کفر ہیں اوراس کی بیوی سے مراد ان کے اتباع۔جیسا کہ آدم علیہ السلام کی بیوی سے مراد آدم کے اتباع بھی ہیں۔گویا اس سورۃ میں سورۂ نصر میں بیان ہونے والے مضمون سے پیداشدہ ایک سوال کا جواب دیاگیا ہے اور وہ یہ کہ طبعی طور پر دل میں خیال آسکتا تھا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فتوحات کے دروازے کھل بھی گئے اور اسلام غالب بھی آگیا۔لیکن پھر کسی وقت کوئی ایسا زبردست دشمن پیدا ہوگیا جس نے اسلام پرحملہ کر کے اس کے غلبہ کو ختم کردیا تو اس عارضی غلبہ کا کیا فائدہ؟ اس سوال کا جواب سورۂ لہب میں دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ! یہ امر اچھی طرح یاد رکھیں کہ نہ صرف یہ کہ اسلام غالب آئے گا بلکہ اس کا غلبہ دائمی ہوگا اگر کسی وقت کسی دشمن نے اسلام پر حملہ کرکے اس کو مٹانے کی کوشش کی توا للہ تعالیٰ اپنی زبردست طاقت سے ایسے دشمن کو تباہ کر دے گا اور اسلام کی کمزوری کو دور کرکے پھر اس کو غالب کردے گااور اگر اسلام کے اندرکسی وقت ضعف پیدا ہوا تو وہ تھوڑی دیر کے لئے ہو گا اور اس کے بعد پھر سے اسلام کا سورج ساری دنیا کو منوّر کرنے لگ جائے گا۔اس سورۃ کا تعلق سورۂ کوثر سے بھی ہے۔سورۂ کوثر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو وعدے کئے گئے تھے۔(۱)کثرت جماعت کا وعدہ۔(۲) دشمنوں کی تباہی کا وعدہ۔گویا پہلے وعدہ کے پورا ہونے کا ذکر سورۃ نصر میں کیا گیا ہے اور دوسرے وعدے کے پورا ہونے کا ذکر سورۂ لہب میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو بالکل ابتدائی زمانہ میں نازل فرما کر مسلمانوں کی ہمت بندھائی کہ گھبرائو نہیں گو تم کمزور اور ضعیف ہو۔لیکن تمہارا مددگار وہ طاقت ور خدا ہے کہ جس کے منشاء کے ماتحت زمین و آسمان کے ذرّات حرکت میں آتے ہیں۔پس جو بھی تمہاری مخالفت کرے گا وہ رسوا و خوار ہو گا اور تباہی کا منہ دیکھے گا۔پھر مضمون کے اعتبار سے اس سورۃ کو بالکل آخر میں رکھا تا آئندہ آنے والی نسلوں کے حوصلے بلند ہوں اور کسی زمانہ میں کفر کی طاقت کو دیکھ کر مسلمان گھبرا نہ جائیں۔بلکہ یہ یقین رکھیں کہ اسلام کا خدا غالب خدا ہے اور وہ اس کے دشمنوں کو خود تباہ کر دے گا۔گویا سورۃ نصر اور سورۃ لہب اُمت کے نام دو آخری پیغام ہیں۔ایک زیادتیٔ ایمان اور ترقیٔ ایمان کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا کفر کی ہلاکت کی طرف ذہن کو منتقل کرتا ہے۔