تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 346
سُوْرَۃُ اللَّھَبِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ اللھب۔یہ سورۃ مکّی ہے وَھِیَ سِتُّ اٰیَاتٍ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ اور اس کی بسم اللہ سمیت چھ آیات ہیں۔سورۃ لہب مکّی ہے سورۃ اللّہب مکی سورۃ ہے اوراس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ اور ابن الزبیر سے روایت کی ہے کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔( فتح القدیر سورۃ اللّہب) تفسیر اتقان میں علامہ سیوطی نے جو ترتیب نزول مختلف راویوں سے بیان کی ہے اس میں سورۃ اللّہب کو پانچویں نمبر پر بیان کیا ہے یعنی ان کی تحقیقات میں سب سے پہلے سورۃ العلق نازل ہوئی پھر نون والقلم پھر مزّمّل پھر مدّثّر پھر سورۃ اللّہب۔(الاتقان النوع الاول فی معرفۃ المکی والمدنی ) گویا یہ سورۃ بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔وہیری کے نزدیک اس سورۃ کا نزول نبوت کے پانچویں یا چھٹے سال ہواتھا۔ترتیب و تعلق مضمون کے اعتبار سے سورۃ اللّہب قرآن کریم کی آخری سورۃ ہے۔کیونکہ ہماری ترتیب کے لحاظ سے اس پر قرآن کریم کا مضمون ختم ہوجاتا ہے۔اس کے بعد کی تین سورتوں میں قرآن کریم کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔سورۃ لہب کا تعلق پہلی سورۃ سے اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ تعلق ہے کہ پہلی سورۃ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی دی گئی تھی کہ وہ فتوحات جو آپ کو ہورہی ہیں وہ آپ کی حیات تک محدود نہیں بلکہ ان فتوحات کے دروازے آپ کی وفات کے بعد بھی کھلے رہیں گے۔یہاں تک کہ اسلام دنیا پر غالب آجائے گا۔اور پھر یہ بھی بیان کیا گیا تھا کہ جب بھی اسلام کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہو گی جو اس کی کشتی کو بھنور سے نکالے اور اس کا جھنڈا سر نگوں نہ ہونے دے۔اللہ تعالیٰ اس وقت کسی ایسے شخص کو کھڑا کر دے گا اور اُمّت محمدیہ کی دستگیری فرمائے گا۔سورۃ لہب کا خلاصہ مضمون سورۂ لہب میں سورۃ نصر کے مضمون کو مکمل کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ صرف یہی نہیں ہوگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فتوحات کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے اور اسلام