تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 345

جس طرح سے عالم الغیب خدا کی باتیں پہلے پوری ہوئی ہیں، اب بھی پوری ہوں گی۔وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ۔روایات میں آتا ہے کہ سورۃ نصر کے نزول پر اللہ تعالیٰ کے حکم سَبِّحْ بِحَمْدِرَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعائیہ کلمات اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے پڑھا کرتے تھے کہ سُبْـحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِـحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ۔( در منثور سورۃ النصر) یعنی اے اللہ میں تیری تسبیح کرتاہوں اور تیری ذات میں سب خوبیوں کے ہونے کا اقرار کرتاہوں اور تجھ سے بشری کمزوری پر پردہ پوشی چاہتاہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔حضرت ام سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ آپ یہ دعا باربار کیوں پڑھتے ہیں۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی قسم کی دعا کرنے کا ارشاد فرمایا ہے اور پھر سورۃ نصر کی آیات پڑھیں۔بہر حال اس روایت سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی اُمّت کے لئے کثرت سے دعائیں کیں تاآپ کی اُمّت راہِ راست پر قائم رہے اور جب کبھی اس میں کوئی خرابی پیدا ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے اشخاص کو کھڑا کر دے جو اس خرابی کو دور کردیں اور یہ کہ خود اللہ تعالیٰ اُمّت محمدیہ کی تربیت کا انتظام کرتا رہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا سنی گئی اور اس کا نتیجہ جو کچھ نکلا وہ تاریخ کے اوراق بتا رہے ہیں اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا اور جب بھی اسلام کی حفاظت کا سوال پیدا ہوگا اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کے سامان پیدا کردے گا۔