تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 344

کرنے والے تھے۔اور اس طرح اسلام از سر نو زندہ ہو گیا۔چنانچہ کجا تو یہ حالت تھی کہ سمندر پار سے عیسائیوں کے پادری مسلمانوں کے مختلف ممالک میں اسلام پر حملے کر رہے تھے اور کجا یہ حالت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہیوں نے ان کے ممالک میں پہنچ کر ان پر حملہ شروع کر دیا اور یکے بعد دیگرے مخالفین میں سے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشّاق پیدا ہونے شروع ہو گئے اور اب یہ بات نظر آرہی ہے کہ وہ دن جلد ہی آنے والا ہے جبکہ تمام مغربی اقوام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوں گی اور ایک ہی رسول ہوگا او رایک ہی شریعت اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہوجائے گی۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کو سنے گا اور باربار اپنے فضل کے ساتھ آپ کی قوم پر رجوع کرے گا وہ پوری شان کے ساتھ پوراہوا ہے اور پورا ہوتا رہے گا۔کیونکہ اسلام قیامت تک کے لئے ہے اور خدا کے وعدے بھی قیامت تک پورے ہوتے رہیں گے۔انشاء اللہ۔روایات میں آتا ہے کہ جب سورۃ نصر نازل ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس سے اطلاع دی تو آپ نے فرمایا لَیَخْرُجَنَّ مِنْہُ اَفْوَاجًا کَمَا دَخَلُوْا فِیْہِ اَفْوَاجًا( فتح القدیر تفسیر سورۃ النصر آیت ۱) کہ اب تو اسلام میں لوگ گروہ در گروہ داخل ہورہے ہیں لیکن ایک وقت ایسا آئے گا جبکہ مسلمان گروہ در گروہ اسلام کو خیر باد کہنے لگ جائیں گے اور اسلام کے حلقہ سے نکل جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ سَو فی صدی پورا ہوا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں جب عیسائیت نے اسلام پر حملہ کیا لوگ کثرت سے اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں داخل ہو گئے تھے۔اور اسی طرح سے دوسری تحریکیں جو اسلام کے خلاف چلیں ان کا شکار ہوگئے تھے۔پس اسلام کا موجودہ تنزّل بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کابیّن ثبوت ہے۔کیونکہ ایسے وقت میں جب کہ اسلام دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔اور اس کے تنزّل کاخیال بھی نہیں آسکتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جبکہ اسلام کے ماننے والے اس کو خیر باد کہہ دیں گے۔اور گروہ درگروہ اسلام سے نکل کھڑے ہوں گے صرف اور صرف خدائے علّام الغیوب کے علم کی بنا پر ہی ہو سکتا تھا۔پس جہاں خدا تعالیٰ کی یہ بات پوری ہوئی ہے وہاں دوسری بات بھی پوری ہو گی جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوائی کہ دوبارہ اسلام زندہ کیا جائے گا۔اور مسیح موعود کی بعثت کے ذریعہ سے اسلام کا سورج پھر وسطِ آسمان میں چمکے گا۔اور تمام قومیں اسلام میں داخل ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد کے گیت گائیں گی۔پس