تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 337
اسی دنیا میں مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی ہم ان کی مدد کریں گے جب فیصلہ کے لئے گواہ اپنی گواہیاں دینے کے لئے آکھڑے ہوں گے۔وہ ایسا دن ہوگا جبکہ نافرمانوں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی او ران کے لئے خدا سے دوری ہو گی اور انہیں رہنے کو بہت برا گھر ملے گا۔یاد رکھو ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو تورات کا وارث کیا جس میں لوگوں کے لئے ہدایت اور نصیحت تھی یعنی جس طرح بنی اسرائیل تورات کی برکت سے ارضِ مقدسہ کے وارث ہوگئے اور خدا کی نعمتیں ان کو مل گئیں اسی طرح مسلمانوں کو بھی مکمل کتاب ملے گی اوردنیا پر ظاہری غلبہ بھی حاصل ہو جائے گا اور مکہ جو ان کا مقدس مقام ہے اور جو اس وقت مخالفوں کے قبضہ میں ہے وہ بھی ان کو مل جائے گا۔اس غلبہ کی پیشگوئی کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ کہ اے رسول ! جلدی نہ کرو کہ یہ غلبہ کا وعدہ کب آئے گا بلکہ صبر سے کام لو۔یقیناً یہ وعدہ پورا ہوکر رہے گا اور اپنے ذنب کے لئے استغفار کرو۔غرض پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی ہلاکت کی خبر دی اور پھر غلبہ اور فتح مکہ کی خبردی اور استغفار کا حکم دیا۔دوسری جگہ جہاں استغفار کا حکم ہے وہ سورۃ محمدؐ کی یہ آیت ہے۔فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ۔اس سے پہلے یہ آیت ہے فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ۔سورۃ محمدؐ کا سارا مضمون مخالفینِ اسلام کی تباہی کے ذکر میں ہے اور یہ بتایاگیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھائیں گے اور اسلام کو فتح ہو گی۔اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً کہ مخالفینِ اسلام تو بس اس گھڑی کے منتظر ہیں جس میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون او راس سے پہلے پہلے اسلام کے دلائل پر غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم اس وقت جب معاملہ کھل جائے گا ایمان لے آئیں گے۔لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ فتح مکہ کی گھڑی اچانک آجائے گی۔ہاں یادرکھو اس کے قریب آنے کی علامات ظاہر ہو چکی ہیں۔پھر جب وہ گھڑی آپہنچے گی ان کا ایمان لانا ان کو کیافائدہ دے سکتا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ! یہ امر یاد رکھو کہ صرف قادر خدا ایک ہی ہے اسی کے اشارے پر ہر ایک چیز حرکت کرتی ہے۔پس جب وقت آجائے گا اللہ تعالیٰ کے فرشتے اتریں گے اور لوگوں کے دلوں کو تمہاری طرف مائل کردیں گے اور لوگوں کے لئے اسلام میں