تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 338
داخل ہونے کا راستہ کھل جائے گا۔پس ایسے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کرنا چاہیے نہ صرف اپنے لئے بلکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ تمہارے حالات سے بخوبی واقف ہے۔غرض ان آیات میں بھی پہلے دشمنوں کی تباہی کا ذکر ہے اور پھر مسلمانوں کی کامیابی اور اس کے بعد استغفار کا حکم ہے۔تیسری جگہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذنب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تیرے ذنب پر پردہ ڈال دیا ہے۔وہ سورۃ فتح کی ابتدائی آیات ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۔لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ يُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا۔وَّ يَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِيْزًا۔یعنی اے نبی ! ہم تجھے ایک ایسی کھلی فتح عطاکریں گے کہ جس کے بعد ہرایک پر واضح ہوجائے گا کہ دین اسلام سچا دین ہے۔اور تم صراط مستقیم پر تھے اور اس فتح کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک طرف تم پر فتح سے پہلے ایمان لانے والوں کی تربیت ہو کر ان کے نقائص دور ہو جائیں گے اور تمہاری بشری کمزوریوں کی وجہ سے ان کی تربیت میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو وہ دور کردی جائے گی اور فتح کے بعد جو لوگ اسلام میںداخل ہوں گے ان کی تربیت میں اگر تمہاری بشری کمزوریوں کی وجہ سے کوئی نقص رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی دور کردے گا اور تمہاری دعائوں کے نتیجہ میں تم پر نعمت کو مکمل کردے گا۔یعنی مسلمانوں میں ایسے لوگ بار بار پیدا ہوتے رہیں گے جو اصلاحِ امّت کا کام سر انجام دیں گے اور اس کی خرابیوں کو دور کر کے صحیح مقام پران کو قائم رکھیں گے اور دنیا وی لحاظ سے بھی مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے گی۔اور اللہ تعالیٰ ان کو ترقی کی راہ پر گامزن کردے گاجس سے وہ خدا تعالیٰ کے انعامات کے مورد ہوتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ایسی نصرت کرے گا کہ کوئی مانع اور مزاحم نہ ہو سکے گا۔ان آیات میں بھی پہلے فتح و نصرت کا ذکر ہے اور دشمنوں کی ہلاکت کی پیشگوئی کی گئی ہے اور اس کے بعد ذنب پر مغفرت کر دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔غرض ان تمام آیات کو دیکھ کر بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح اور آپ کے دشمنوں کی مغلوبیت کے ساتھ وہ کون سی بات متعلق ہے جس کے لئے استغفار کا حکم ہے۔یاوہ کون سی بات ہے جس کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم نے اس پر مغفرت کردی ہے۔سوجاننا چاہیے کہ نبی باوجود نبی ہونے کے پھر انسان ہی ہوتا ہے اور انسان کے تما م کام خواہ کسی حدتک وسیع ہوں محدود ہی ہوتے ہیں۔ایک استاد خواہ کتنا ہی لائق ہو اور ایک