تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 336

استغفار کرو۔اور سورۃ فتح کی آیات میں غفر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے۔اور فرمایا ہے لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے پہلے اور پچھلے ذنب پر مغفرت کردی ہے۔ان آیا ت کے حل کے لئے سب سے پہلے ہم لغت کی طرف توجہ کرتے ہیں۔لغت میں غفر کے معنے ڈھانکنے کے ہیں۔اور ذَنَبَہٗ ذَنْبًا کے معنے ہوتے ہیں۔تَلَاہُ فَلَمْ یُفَارِقْ اِثْرَہٗ کہ اس کے پیچھے پیچھے گیا اور اس کی اتباع اور قدم بقدم چلنے کو ترک نہ کیا اور ذَنَّبَ الْعَـمَامَۃَ کے معنے ہوتے ہیں۔اَفْضَلَ مِنْـھَا شَیْئًا وَاَرْخَاہُ کہ پگڑی باندھتے وقت اس کا ایک زائد حصہ جو سر پر لپیٹا نہ جا سکتا تھا اس کو لٹکادیا( اقرب)۔پس ذَنْب کے معنے ہوئے پیچھے آنا یا زائد چیز۔اور غَفَرَ ذَنْبَ کے معنے ہوئے زائد چیز کا ڈھانپ دینا یا پیچھے آنے والے واقعات کی خرابیوں کا ڈھانپ دینا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ذَنْب کے لئے اِسْتِغْفَار کرنے سے مراد یہ ہوگی کہ آپ یہ دعا کریں کہ نبوت کے کام کے وہ بوجھ جو بشری طاقت سے زائد ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اٹھانے کی طاقت عطاکردے۔یا آپ کے بعد آنے والے واقعات کی خرابیوں پر پردہ ڈال دے۔اب ہم سورۃ مؤمن، سورۃ محمدؐ اور سورۃ فتح کی ان آیات پر جن میں ذنب کا لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استعمال کیا گیا ہے جب غور کرتے ہیں تو ایک ایسی عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔جو ان آیات کے مضمون کو اس طرح حل کردیتی ہے کہ سب اعتراض دور ہو جاتے ہیں اور وہ یہ کہ ان سب جگہوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ہلاک ہونے اور آپ کی فتح کا ذکر ہے۔چنانچہ پہلا مقام سورۃ مؤمن کا ہے اور یہ سورۃ مکی ہے اور اس میں آتا ہے کہ فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ۔یعنی اے رسول اللہ !آپ دشمنوں کی ایذائوں پر صبر کریں اور اس دن کا انتظار کریں جب آپ کا غلبہ ہو گا اور یہ ایذا دینے والے شرمندہ ہوں گے۔اور یہ یاد رکھیں کہ یہ غلبہ کا وعدہ پورا ہوکر رہے گا اور مکہ بھی آپ کو ملے گا اور آپ اپنے ذنب کے لئے استغفار کریں۔اس آیت سے پہلے مندرجہ ذیل آیات ہیں۔اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ۔يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْكِتٰبَ۔هُدًى وَّذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ۔(المؤمن:۵۲تا۵۵) یہ آیات مکہ میں نازل ہوئی تھیں جب مسلمان بہت تکلیف اور دکھ میں تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! گھبرائو نہیں اور یاد رکھو کہ ہم اپنے رسولوں اور ان لوگوں کی جو ان پر ایمان لاتے ہیں