تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 30
غرض اس میں کوئی نہ کوئی ایسی خوبی پائی جاتی ہے جو دوسرے میں نہیں پائی جاتی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی ایک بات میں بھی فضیلت کا حاصل ہونا اللہ تعالیٰ کا ایک انعام ہے۔مگر ایسا انعام نہیں جو اسے تمام لوگوں پر فوقیت دے دے اور چونکہ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فوقیت کا ذکر ہے جو آپ کو تمام انبیاء پر حاصل ہے لیکن چونکہ اس بات کا معین ذکر یہاں نہیں کیا گیا اس لئے ماننا پڑے گا کہ یہاں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تمام کمالات نبوت میں آپ کو کوثر عطا ہوا ہے اور کوئی نبی کسی کمال نبوت میں بھی آپ کا ہم پایہ اور ہم رتبہ نہیں اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُـحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُـحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ إِنَّكَ حَـمِيدٌ مَّـجِيدٌ۔کوثر کے معنے اَلْـخَیْـرُ الْـکَثِیْـر کے کوثر کے معنے جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اَلْـخَیْـرُ الْکَثِیْـر کے ہیں اور اَلْـخَیْـرُ کا لفظ اسم تفضیل یعنی سب سے زیادہ کے معنوں پر دلالت کرتا ہے۔پس اس میں دنیوی امور کا ذکر نہیں۔کیونکہ دنیوی امور کا کوئی ریکارڈ دنیا میں نہیں جسے دیکھ کر فیصلہ کیا جا سکے کہ فلاں بڑا ہے یا فلاں۔یہ ریکارڈ صرف روحانی اور آسمانی انعامات کا ہی ہے۔پس جب مقابلہ کا ذکر ہے تو اس جگہ وہی اشیاء مراد ہیں جن کا مقابلہ کیاجانا ممکن ہے اور وہ امور نبوت اور امور مذہبیہ ہی ہیں۔اَلْـخَیْرُ کے معنے اسی طرح اَلْـخَیْـرُ کے معنے ہو تے ہیں وِجْدَانُ الشَّیْءِ بِـجَمِیْعِ کَمَالَاتِہِ اللَّائِقَۃِ(اقرب) کسی چیز کا مع ان تمام کمالات کے ملنا جو اس میں پائے جاتے ہوں اور جن کی وجہ سے اس کا کوئی نام رکھا گیا ہو۔گویا خیر ایسی خوبی یا بھلائی کو کہتے ہیں جس میں وہ تمام کمالات پائے جاتے ہوں جن کی وجہ سےاس خوبی کو خوبی کہا جاتا ہے۔مثلاً ہم کہیں ہمیں خربوزہ خیر ملا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جو جو خوبیاںایک خربوزہ میں پائی جانی چاہئیں وہ ساری کی ساری اس میں موجود ہیں اور جب یہ لفظ نبوت کے لئے استعمال ہو گا توا س کا یہ مفہوم ہو گا کہ جو جو کمالات اصطلاحِ نبوت میں شامل ہیں وہ سارے کے سارے اپنی پوری شان کے ساتھ آپ کے اندر پائے جائیں گے۔وَقِیْلَ حُصُوْلُ الشَّیْءِ لِـمَامِنْ شَأْنِہٖ اَنْ یَّکُوْنَ حَاصِلًا لَّہٗ۔یعنی بعض آئمہ لغت یہ کہتے ہیں کے خیر کے معنے ہیں کسی چیز کا اس طرح ملنا کہ اس کا ذاتی جوہر تمام و کمال اس میں پایا جائے۔گویا اس لفظ میں وسعت اور عظمت دونوں قسم کامفہوم پایا جاتا ہے۔پس جب نبوت کے لئے یہ لفظ بولاجائے گاتو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ تمام کمالات جونبوت میں پائے جانے چاہئیں وہ (ا) سارے کے سارے (۲) اور اپنی پو ری شان کے ساتھ آپ کے اندر پائے جائیں گے۔اور وہ تمام نقائص جن کی نبوت نفی کرتی ہے وہ آپ میں ہر گز نہ ملیں گے اور چونکہ لفظ کو ثر کے معنوں میں خیر اور کثیر د۲و معنے پائےجاتے ہیںاس لئے کوثر کے معنے یہ ہوں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو