تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 29
اپنی نسبت کلام فرماتا ہے۔بادشاہوں کے علاوہ مصنفین بھی کبھی ’’ہم‘‘ کا لفظ بولتے ہیں اور ان کا مطلب بھی یہ ہو تا ہے کہ وہ بھی اور ان کے ہم خیال لوگ بھی اس امرکا اظہار کرتے ہیں۔پس یہ ایک محاورہ ہے جو دنیا میں عام استعمال ہو تا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسانی دماغ فرد سے جماعت کو قوی سمجھتا ہے۔اس لئے جب قدرت پر زور دینا ہو اللہ تعالیٰ ہمیشہ جمع کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ ہم وجود میں فرد ہیں لیکن طاقت میں جماعتوں سے بھی زیادہ ہیں چونکہ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ بہت بڑا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اپنی شاہانہ حیثیت میں فرماتے ہیں کہ اس وعدہ کے پورا کرنے میں تمام قدرتیں لگ جائیں گی اور یہ بات پو ری ہوکر رہے گی۔اب میں بتاتا ہوں کہ کوثر میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں۔اوپر کی تشریح کے مطابق وہ تمام امور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ سب کے سب کوثر کا حصہ ہیں اور اس لفظ میں یہ دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمالات جو نبوت کا حصہ ہیں یا نبوت سے ان کا گہرا تعلق ہے ان سب میں آپ کو کوثر ملی ہے۔اگر کوئی ایک امر مراد ہوتا تو یہ کوئی انعام نہیں تھا۔کیونکہ کسی بات میں کسی کا اور کسی بات میں کسی کا بڑھ جانا تو ایک طبعی امر ہے یہ کوثر نہیں کہلاتا۔اس طرح تو ہر نبی کو کسی ایک بات میں دوسرے کے مقابلہ میں فضیلت حاصل ہوسکتی ہے اس میں آپ کی کوئی خصوصیت نہیں رہتی۔پس اگر یہاں صرف یہی مراد ہو تا کہ ہم تجھے کسی ایک بات میں فضیلت دے دیں گے۔تو یہ کوئی خاص بات نہ ہوتی۔ایک گاؤں میں پچاس ساٹھ آدمی اکٹھے رہتے ہیں تو ان میں سے کئی ایک کو دوسروں پر کسی نہ کسی رنگ میں فضیلت حاصل ہو گی۔مثلاً اگر وہاں پانچ دس زمیندار ہیں تو ان میں سے کسی نہ کسی کی زمین دوسروں سے زیادہ ہو گی اور یہ ایک فضیلت ہے جو اسے دوسرے زمینداروںپر حاصل ہو گی۔یاپھر گاؤں میں معمار ہوتا ہے اسے سب زمینداروں پر یہ فضیلت حاصل ہو تی ہے کہ وہ معماری جانتا ہے اور زمیندار معماری نہیں جانتا۔پھر نجار کو معمار اور زمیندار دونوں پر فضیلت حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ نجاری جانتا ہے۔معمار اور زمیندار نجاری نہیں جانتے۔لوہار کو ان تینوں پر فضیلت حاصل ہو تی ہے۔اسے لوہار کا کام آتا ہے ان تینوں کو آہن گری نہیں آتی۔پھر کوئی سقّہ ہوتا ہے اسے سقّے کا کام آتا ہے جو دوسروں کو نہیں آتا۔دھوبی کو اس پر فضیلت حاصل ہو تی ہے کیونکہ وہ دھوبی کا کام جانتا ہے اور سقّہ یہ کام نہیں جانتا۔اسی طرح عطار ہے اسے جو فضیلت حاصل ہے وہ معمار کو حاصل نہیں۔نہ بڑھئی، لوہار، سقّے اور دھوبی کو حاصل ہے۔غرض قریباً ہر انسان دوسرے پر کسی نہ کسی رنگ میں فضیلت رکھتا ہے۔کوئی موٹا ہوتا ہے کوئی دبلا ہو تا ہے۔کوئی چھوٹے قد کا ہوتا ہے اور کوئی لمبے قد کا ہو تا ہے۔کوئی عالم ہو تا ہے اور کوئی جاہل ہو تا ہے۔