تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 330
محفوظ رکھنے کے لئے اس پر کوئی چیز ڈال دیں تو اس وقت اس کے لئے غفر کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں۔اِغْفِرْ ثَوْبَکَ فِی الْوِعَاءِ کہ اپنے کپڑے کو گرد اور مَیل سے بچانے کے لئے کسی تھیلے یا ٹرنک میں رکھ دو۔(مفردات) پس اِسْتَغْفِرْہُ کے معنے ہوں گے اللہ تعالیٰ سے اپنی بشری کمزوری پر پردہ پوشی طلب کرو۔یعنی دعا کرو کہ تمہارے ماننے والوں میں کسی قسم کی کوئی خرابی پیدانہ ہو اور وہ صحیح راستہ پر قائم رہیں۔تفسیر۔تسبیح کے ساتھ تحمید کرنے کا حکم دینے میں حکمت سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ۔جیساکہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے۔سَبَّحَ کے معنے اللہ تعالیٰ کی ذات کو تمام عیوب اور نقائص سے مبرّا قرار دینے کے ہوتے ہیں اور حمد کے معنے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں تمام خوبیوں کے ہونے کا اقرار کیا جائے۔گویا اس آیت میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ اگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہماری نصرت ختم ہو جاتی اور فتوحات کا سلسلہ بند ہو جاتا تو مسلمان بجا طور پر کہہ سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ وفاداری نہیں کی اور اسی طرح کفار بھی یہ کہہ سکتے تھے کہ مسلمانوں کو جو فتوحات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوئیں وہ محض ان کی ذاتی قابلیت کے نتیجہ میں تھیں اور آپؐکی وفات کے بعد فتوحات کا رُک جانا اسلام کے سچا نہ ہونے کا بیّن ثبوت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو ان ہر دو امور سے بَری ثابت کرنے کے لئے اپنے رسولؐکو یہ اطلاع دے دی کہ نہ تو آپؐکی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑے گا اور نہ فتوحات کا سلسلہ بند ہو کر مخالفوں کے لئے خوشی کا موقع پیدا ہوگا۔جب اللہ تعالیٰ نے سورۃ نصر کی آیات کو نازل کر کے اپنے آپ کو ان الزاموں سے بَری ثابت کر دیا ہے تو اے رسول اللہ اب آپ کا بھی فرض ہے کہ آپ پوری طرح اعلان کردیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔نہ تو وہ اپنے بندوں کو بے یارومددگار چھوڑتا ہے کہ اس پر کوئی الزام عائد ہو اور نہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے اور چونکہ اس نے باوجود مخالف حالات کے مسلمانوں کو غالب کردیا ہے اور آئندہ بھی غالب کرتا چلا جائے گا۔اس لئے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد کے گیت گائے جائیں اور یہ کہا جائے کہ ہر خوبی اس کی ذات میں پائی جاتی ہے۔پھر اس آیت میں لفظ رَبّ استعمال فرمایا۔یعنی یہ کہا ہے کہ اپنے رب کی حمد کرو۔یہ نہیںکہا کہ اللہ کی حمد کرو۔رَبّ کے معنوں کے اندر یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ ادنیٰ حالت سے ترقی دیتے دیتے کمال تک پہنچانا۔گویا رَبّ کا لفظ اس آیت میں استعمال کرنے میں یہ حکمت ہے کہ تا یہ بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس لئے حمد کا مستحق ہے کہ اس نے مسلمانوں کو ضعف کی حالت سے اٹھا کر ساری دنیا کا مالک بنادیا۔پس جو کسی پر اتنا فضل کرے وہ بہر حال حمد کا