تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 331
مستحق ہو گا۔پھرحمد کے لفظ میں یہ اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ اے مسلمانو! فتوحات کو دیکھ کر تمہارے اندر کِبر پیدا نہ ہو۔اور یہ نہ سمجھنا کہ یہ فتوحات تمہاری کسی ذاتی قابلیتوں کی بنا پر ہیں۔بلکہ یہ سب کچھ خدا کے فضل کے ماتحت تم کو مِل رہا ہے۔اس لئے تمہیں خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اس کے آستانے پر ہمیشہ جھکے رہنا چاہیے۔تا تمہارا یہ شکر ادا کرنا اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کو نازل کرنے کا موجب ہو۔الغرض فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ کے الفاظ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو تم اعلان کردو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق ہماری نصرت کر کے ایک طرف اپنی ذات کو تمام الزامات سے بَری ٹھہرالیا ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کو حمد کا مستحق قرار دے لیا ہے۔اِسْتَغْفِرْہُ:۔اِسْتِغْفَار کا لفظ غَفْرٌ سے نکلا ہے۔اور جیسا کہ حلِّ لغات میں بتایا جا چکا ہے غَفْرٌ کے معنے ڈھانکنے یا حفاظت کرنے کے ہیں اور استغفار کے معنے ہیں حفاظت کے لئے دعا یا طلبِ حفاظت۔گویا استغفار کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اس کو اپنی حفاظت میں لے لے اور اس کی بشریت کی کمزوریاں ظاہر نہ ہوں یا یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں اس طورپر آجائے کہ اس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔قرآن کریم نے استغفار کے معنے میں وسعت پیدا کرتے ہوئے اس کو ان معنوں میں بھی استعمال کیا ہے کہ جو گناہ انسان سے صادر ہو چکے ہوں ان کے بد نتائج اور ان کی سزا سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی حفاظت طلب کی جائے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ لفظ اس مفہوم میں کثرت سے استعمال ہوا ہے اور یہ ادنیٰ لوگوں کے لئے ہے۔کامل لوگوں کے لئے اس کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ قوم کی اصلاح کرتے ہوئے اگر کوئی امر نظر انداز ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا ازالہ کردے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کرنے کا مطلب سورۃ نصر کی زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ اے ہمارے رسول! اِسْتَغْفِرْہُ۔اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو۔اسی طرح قرآن کریم میں بعض مقامات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں کہ اپنے ذنب کے لئے استغفار کرو۔ایسے مقامات کو پڑھتے وقت یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ استغفار کا لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کن معنوں میں استعمال ہواہے۔کیاان معنوں میں کہ آپؐسے کوئی گناہ سرزد ہواتھا اور پھر آپؐکو حکم ہوا کہ آپؐاس کی سزا سے بچائے جانے کی دعا کریں یا کسی اور معنے میں؟