تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 328

نے پہلی بار کدال مارا تو مجھے کسریٰ کے محلات دکھائے گئے اورمجھے بتایا گیا کہ میری امت اس پر قابض ہو گی۔تب میں نے اللہ اکبر کہا اور پھر دوسری بار کدال مارا تو روم اور شام کے سُرخ محلات کا نظارہ مجھے کرایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ بھی میری امت کو ملیںگے۔اس پر میں نے پھر اللہ اکبر کہا۔پھر تیسری بار جب میںنے کدال مارا تو مجھے صنعاء کے محلات دکھائے گئے اور بتایا گیا کہ اس پر بھی میری امت قابض ہو گی۔الغرض یہ فتوحات جو حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ہوئیں سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کشفاً دیکھ چکے تھے اور ان کو جانتے تھے۔چنانچہ اس آیت میں اسی وجہ سے اَلْفَتْحُ پر ال داخل کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اے محمد رسول اللہ جب اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت آجائے گی اور موعودہ فتوحات حاصل ہو جائیں گی جن کا نظارہ آپ کو کشفاً دکھایا گیا ہے تو اس وقت لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے نیز اَلْفَتحُ میں اَ ل کمال کے معنوں میں بھی ہو سکتا ہے اور معنے یہ ہوں گے کہ جب کامل فتح آجائے گی۔وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ۰۰۳ اور تُو ( اس بات کے آثار ) دیکھ لے گا کہ اللہ کے دین میں لوگ فوج در فوج داخل ہوں گے۔حلّ لُغات۔رَاٰی۔رَاَیْتَ رَاٰی سے فعل ماضی کا صیغہ ہے اور رَاٰی یَرَی رُؤْیَۃً کے معنے ہوتے ہیں نَظَرَ بِالْعَیْنِ اَوْ بِالْقَلْبِ کہ ظاہری آنکھ سے دیکھا یا دل کی آنکھ سے۔(اقرب) پس رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ کے معنے ہوں گے۔تُو دل کی آنکھ سے دیکھ لے گا۔اَفْوَاجًا۔اَفْوَاجًا۔اَفْوَاجٌ فَوْجٌ کی جمع ہے اور اَلْفَوْجُ کے معنے ہوتے ہیں۔اَلْـجَمَاعَۃُ مِنَ النَّاسِ لوگوں کا ایک گروہ اور جماعت۔اَوِ الْـجَمَاعَۃُ الْمَارَّۃُ السَّـرِیْعَۃُ۔یا ایسی جماعت جو جلدی سے گذر جائے۔اور رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا کے معنے ہوں گے اَیْ طَائِفَۃٌ بَعْدَ اُخْریٰ کہ تُو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہوں گے۔(اقرب) تفسیر۔وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔یعنی جب اللہ تعالیٰ کی نصرت اور موعود فتح آجائے گی اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہوتے دیکھ لے گا یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو آپ نے فوج در فوج لوگوں کو اسلام میں داخل ہوتے کس طرح دیکھا۔اس