تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 327
اس میں بھی مسلمان سیلاب کی طرح بڑھتے چلے گئے اور خراسان، افغانستان اور سندھ تک قبضہ کر لیا۔اور شمالی افریقہ کے علاقے طرابلس، تونس، مراکش اور الجزائر وغیرہ فتح کر لئے اور یورپ کی سرحد تک مسلمان پہنچ گئے اور مسلمانوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے سب علاقہ کو روند ڈالا۔یہ سب فتوحات اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کے وعدے کے مطابق تھیں۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے فرستادہ اور رسول نہ ہوتے تو مزید کامیابی تو کجا مسلمانوں کا اپنا شیرازہ بھی آپ کے بعد بکھر جاتا۔لیکن نہ صرف یہ کہ مسلمان ایک نقطہ پر جمع رہے بلکہ ہر طرف فتح نے ان کی پیشانیوں کو چوما۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کے مطابق تھا جو اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات کے وقت کئے تھے۔اس آیت کے متعلق یہ امر بھی ذکر کے قابل ہے کہ اس میں اَلْفَتْح پر ال داخل کیا گیا ہے اور عربی زبان میں جب کسی لفظ پر ال داخل کیا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ مخاطب اس امر کو جانتا ہے۔جیسے رَجُلٌ کے معنے ہوں گے کوئی آدمی۔اور جب اس پر ال داخل کردیں اور کہیں الرَّجُلُ تو اس کے معنے ہوں گے وہ خاص آدمی جس کو متکلم اور مخاطب دونوں جانتے ہیں۔پس آیت اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ میں اَلْفَتْحُ پر ال داخل کر کے یہ کہا گیا ہے کہ یہ فتح جس کے وعدے دئیے جارہے ہیں ایسی ہے کہ اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اور یہ بات درست ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ نظارے کشف میںدکھا دئیے تھے۔اور بتا دیا تھاکہ وہ دن دور نہیں جب کہ ایران اور روم کے ملک مسلمانوں کے قبضہ میں آجائیں گے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لارہے تھے تو راستے میں ایک شخص سراقہ نے آپ کا تعاقب کیا۔اس کی نیت خراب تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی۔باربار سراقہ کا گھوڑا ریت میں دھنس جاتاتھا۔اس وقت آپؐنے سراقہ کو بلایا اور کہا کہ میں تیرے ہاتھوں میں کسریٰ شاہِ ایران کے کنگن دیکھتا ہوں۔سراقہ ابھی مسلمان نہیں تھا۔بعد ازاں ان کو قبول اسلام کی توفیق ملی اور بالآخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب کسریٰ شاہِ ایران کے کنگن آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکماً ان کنگنوں کو سراقہ کے ہاتھوں میں پہنایا۔پھراسی طرح جنگِ احزاب میں جب مسلمان اپنی حفاظت کے لئے خندق کھود رہے تھے تو ایک ایسا پتھر آگیا جو ٹوٹتا نہیں تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی اور آپ اپنا کدال لے کر تشریف لائے۔اور تین بار کدال مارا۔اور ہربار اللہ اکبر بلند آواز سے فرمایا اور پتھر ٹوٹ گیا۔تب آپ نے اپنے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ کیوں آپ نے اللہ اکبر کہا۔تب صحابہ نے کہا کہ آپ ہی بتائیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں