تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 323

کہلاتا ہے یعنی جب کسی چیز کے آنے کا راستہ بند ہو اور پھر اس کا راستہ کھول دیا جائے تو اس وقت فتح کا لفظ بولتے ہیں۔( مفردات ) پس اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کے معنے ہوں گے کہ جب اللہ تعالیٰ کی نصرت واعانت آجائی گی اور اللہ تعالیٰ اس بند کو توڑ دے گا جس کی وجہ سے کفار اسلامی طریقِ عبادت کو قبول نہیں کرتے تھے تو اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہونے شروع ہو جائیں گے۔کیونکہ کفار کی فطرتیں بدل دی جائیں گی اور ان کی ضمیر پر اسلام کو غلبہ دےدیا جائے گا۔تفسیر۔قبل ازیں یہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف ستّر دن پہلے نازل ہوئی تھی اور یہ کہ اس سورۃ کے نازل ہونے کے ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم بھی دے دیا گیا تھا کہ اب آپؐکی وفات کا وقت قریب ہے۔یہ طبعی بات ہے کہ جب کسی شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ عنقریب اپنے رشتہ داروں، عزیزوں اور اقرباء کو چھوڑ کر اس دنیا سے جانے والا ہے تو وہ اس لحاظ سے متفکر ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد اس کی اولاد، اس کے عزیز وں، رشتہ داروں اور متعلقین کا کیا بنے گا۔سورۃ فتح میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام کی حفاظت اور ترقی کی پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام بخشا تھا۔اس لحاظ سے آپؐکو اپنے جسمانی عزیزوں اور اقرباء کے متعلق تو کوئی فکر دامنگیر نہیں ہو سکتا تھا۔ہاں اگر خیال آسکتا تھا تو یہی کہ کہیں آپؐکے بعد آپؐکی اُمّت میں کوئی خلل تو پیدا نہ ہوگا اور اگر پیدا ہوا تو اس کے متعلق کیا صورت ہو گی اور نبی کی وفات پر عام طور پر اس کے متبعین گھبرا جاتے ہیں اور نبی کی وفات کو بے وقت موت سمجھا جاتا ہے اور مخالفین بھی اس خیال میں ہوتے ہیں کہ اس نبی نے تو اپنے زمانہ میں کام چلا لیا ہے۔لیکن اس کی وفات کے بعد اس کا لگایا ہوا پوداختم ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ نصر میں ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ آپ متفکر نہ ہوں۔یہ فتوحات جو آپ کے زمانہ میں ہوئی ہیں یہ رُک نہیں جائیں گی۔بلکہ ان کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو جائے گا اور اسلام میں اگر آپ کے زمانہ میں بیک وقت سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے ہیں تو آپ کے بعد ہزاروں کی تعداد میں شامل ہوں گے اور حضور کے چشمہ سے فوج در فوج لوگ سیراب ہوں گے اور آپ کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے وجودوں کو کھڑا کر دے گا جو آپ کی اُمّت کو سنبھال لیں گے اور اس میں کسی قسم کا رخنہ پیدا نہ ہونے دیں گے۔اور مخالفین جو سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپؐکا سلسلہ ختم ہو جائے گا ان کی خوشیاں پامال ہو جائیں گی۔