تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 324

اوراسلام دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا اور جو مشکلات پیش آئیں گی وہ خش وخاشاک کی طرح اڑ جائیں گی۔گویا اللہ تعالیٰ نے سورۃ نصر کو نازل کر کے ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلّی دی اور دوسری طرف آپؐکے متبعین کو یہ ہدایت کی کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر گھبرا نہ جائیں۔جس خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کامیاب و کامران کیا وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا خدا ہے اور وہ آپؐکی وفات کے بعد آپؐکی اُمّت کا محافظ ہوگا اور آپؐکے بعد صحابہ کو یتیم کی صورت میں دیکھ کر وہ پہلے سے بھی زیادہ مدد کرے گا اور اس کی نصرت کے دروازے بند نہیں ہوں گے بلکہ اور بھی زیادہ کھل جائیں گے اور اس نصرت کو دیکھ کر لوگ اسلام میں فوج در فوج داخل ہونے شروع ہو جائیں گے۔اور آسمانی بادشاہت کا قیام ہو جائے گا او رساری دنیا توحید کے نُور سے منور ہوجائے گی۔مزید برآں مخالفین کی جھوٹی خوشیاں بھی پامال ہو جائیں گی۔چنانچہ یہ وعدہ جس رنگ میں پورا ہوا اس کو ہرغیر متعصب آدمی دیکھ کر یہ اقرار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ واقعی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے رسول تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر اور مخلص لوگوں کے بھی قدم لڑکھڑا گئے اور ان پر گھبراہٹ طاری ہو گئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو بظاہر بے وقت سمجھا جانے لگا اور پھر خلافت کے انتخاب پر بھی فتنہ کے آثار نظر آرہے تھے۔کیونکہ انصار یہ چاہتے تھے کہ خلیفہ ان میں سے منتخب کیا جائے اور مہاجرین کی یہ رائے تھی کہ عرب لوگ سوائے قریش کے کسی اور سے دبنے کے نہیں۔اس فتنہ کو دیکھ کر مخالفین یہود اور دوسرے لوگ اس خیال سے خوش تھے کہ اسلام اب ختم ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فوراً گرتی ہوئی قوم کو سنبھال لیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کھڑا کردیا اور انہوں نے قوم کی باگ ڈور سنبھال لی اور جو لوگ انصار میں سے تھے اور چاہتے تھے کہ ان میں سے خلیفہ کا انتخاب ہو ان کو بھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف مائل کردیا۔پھر ابھی قوم کا شیرازہ سنبھلنے نہ پایا تھا کہ عرب کے بعض قبائل نے ارتداد کا اعلان کر دیا اور ان کے سرداروں نے خود مختار حکومتیں قائم کر لیں۔اسی طرح سے متعدد جھوٹے مدعیانِ نبوت اٹھ کھڑے ہوئے۔مزید برآں بعض قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ان مشکلات کے ساتھ موتہ کی مہم علیحدہ درپیش تھی جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں رومیوں سے حضرت زیدؓ بن حارثہ کے خون کا انتقام لینے کے لئے ان کے لڑکے اسامہؓ بن زید کی ماتحتی میں شام بھیجنے کا حکم دیا تھا ابھی یہ مہم روانہ نہ ہوئی تھی کہ آپؐکا انتقال ہو گیا۔یہ سب حالات اس قسم کے تھے