تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 322
ہوجائے اوریہ کہ مذہب کے بارہ میں جبر سے کام لینے کی بجائے دلائل و براہین سے کام لینا چاہیے۔اور مذہب کے اختیار کرنے میں پوری آزادی ہونی چاہیے۔اے کافرو! تم نے اپنے ہتھیار کو استعمال کیا اور مسلمانوں نے اپنے ہتھیار کو استعمال کیا۔اب تھوڑے دنوں میں نتیجہ نکل آئے گا کہ باوجود تمہارے پورے جبر کے تمہاری ساری قوم ٹوٹ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آگرے گی۔اور یہ ظاہر ہے کہ جب تمہاری قوم مسلمان ہوجائے گی تو مسلمانوں کو تمہارے ساتھ شامل ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔پس جو دعویٰ سورۃ کافرون کی آخری آیت میں کیا گیا تھا وہ ثابت ہو جائے گا کہ غلبہ کے متعلق کفار کا نظریہ اور ہے اور مسلمانوں کا اور ہے۔لیکن سچا نظریہ وہی ہے جو مسلمانوں کا ہے کہ وہی جیتے گا جو دلیل سے کام لے گا اور تلوار اور سونٹا ناکام رہیں گے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے ( شروع کرتا ہوں ) اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ۰۰۲ جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آجائے گا۔حلّ لُغات۔نَصْـرٌ۔نَصْـرٌ۔نَصَـرَ الْمَظْلُوْمَ نَصْـرًا کے معنے ہوتے ہیں اَعَانَہٗ یعنی مظلوم کی مدد کی۔اور جب نَصَـرَ فُلَانًا عَلٰی عَــدُوِّہٖ وَمِنْ عَــدُوِّہٖ کہیں تو معنے ہوں گے نَـجَّاہُ مِنْہُ وَخَـلَّصَـہٗ وَاَعَانَہٗ وَقَوَّاہُ عَلَیْہِ کہ فلاں نے فلاں کی مدد کر کے اس کو اس کے دشمن سے نجات دلادی اور دشمن پر غالب کر دیا۔(اقرب) اَلفَتْحُ۔اَلفَتْحُ :۔فَتَحَ الْـحَاکِمُ بَیْنَ النَّاسِ کے معنے ہوتے ہیں قَضٰی۔حاکم نے لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا کہ کون حق پر تھا اور کون ظالم۔اور جب فَتَحَ الْسُّلْطَانُ دَارَالْـحَرْبِ کا فقرہ بولیں گے تو مراد یہ ہوگی کہ غَلَبَ عَلَیْھَا وَتَـمَلَّکَھَا یعنی بادشاہ اس علاقہ پر غالب آگیا جس سے جنگ چھڑی ہوئی تھی۔نیز فَتَحَ کے معنے ہوتے ہیں۔اس نے کوشش کی۔وَاَقْبَلَتْ عَلَیْہِ الدُّنْیَا اور دنیا اس کے قدموں میں آگری۔اور جب فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّہٖ فَتْحًا کہا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ نَصَـرَہٗ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مددکی اور اس کو اس کے مخالفوں پر غالب کردیا۔(اقرب) مفردات امام راغب میں لکھا ہے۔اَلْفَتْحُ اِزَالَۃُ الْاِغْلَاقِ وَالْاِشْکَالِ۔رکاوٹ اور بند کو دور کر دینا فتح