تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 321
دونوں ہی ذکر ہوتے ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ ایک سورۃ میں مدّ ِنظر اسلام کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہےاور دوسری سورۃ میں خصوصیت کے ساتھ مدّ ِنظر اسلام کا آخری زمانہ ہوتا ہے۔چنانچہ اسی ترتیب کے پیش نظر یہ بتایا جا چکا ہے کہ سورۃ نصر سے پہلی سورۃ یعنی سورۃ کافرون میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ کا ذکر ہے۔یعنی اس کا مضمون اس موجودہ زمانہ پر زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔ہماری اس ترتیب کے مطابق سورۃ نصر کا مضمون رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پر زیادہ چسپاں ہونا چاہیے۔گویا یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لئے مقصود اوّل ہے۔سورۃ نصر کا پہلی سورۃ سے تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ تعلق ہے کہ سورۃ کافرون میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐکے ساتھیوں کو یہ حکم تھا کہ وہ اعلان کردیں کہ وہ اسلام کے منکروں کے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتے اور نہ ان عبادت کے طریقوں کو اختیار کرسکتے ہیں جن کو اسلام کے منکرین اختیار کئے ہوئے ہیں۔اسی طرح کفار کے متعلق یہ بیان تھا کہ وہ اپنے عبادت کے طریقوں کو چھوڑنے والے نہیں۔اس کے بعد سورۃ نصر کو رکھ کر اس لطیف مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ تھوڑے عرصہ میں اسلام کو عظیم الشان فتوحات حاصل ہونے والی ہیں۔اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اتباع عملی طور پر یہ دیکھ لیں گے کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید کی ہے تو کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ اس طریق کو اختیار کر یں جس کے ساتھ خد انہیں اور پھر جو شکست خوردہ طریق بھی ہے۔اسی طرح جب کفار دیکھ لیں گے کہ ان کی جماعت ٹوٹ گئی اور تما م کار آمد لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے تو وہ بھی خواہ فطرتاً شرک کے حق میں ہوں مگر ان کی ضمیر ان کو مجبور کر کے اسلام میں داخل کردے گی۔پس گو وہ ظاہر میں مسلمانوں کا طریق عبادت اختیار کریں گے مگر درحقیقت یہ خدائی معجزہ کے ماتحت ہو گا۔ان کی اپنی مرضی سے نہیں۔اگر اپنی مرضی پر انہیں رہنے دیا جاتا تو اپنے آبائو اجداد کی تعلیم کے مطابق کبھی وہ اسلامی عبادت اختیار نہ کرتے۔اسی طرح سورۃ نصر کا سورۃ کافرون کی آخری آیت کے ساتھ بھی ایک تعلق ہے اور وہ یہ کہ سورۃ کافرون کی آخری آیت میں یہ کہا گیا تھا لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کہ اے کافرو! تمہارے نزدیک غلبہ کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی تمہارے مذہب سے ذرا اِدھر اُدھر ہوا تم لٹھ لے کر کھڑے ہو گئے۔اس کو مارا پیٹا اور اس کی جان لینے کے درپے ہوگئے اور اس کو جبرو اکراہ سے اپنے بتوں اور معبودوں کی طرف لانے کی کوشش کی اور ہر طرح کا ظلم روا سمجھا۔لیکن اسلام ایسے غلبہ کو غلبہ نہیں بلکہ شکست سمجھتا ہے اور اسلام کے نزدیک غلبہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے دلائل پیش کئے جائیں جودل و دماغ پر قابو پالیں اور ایک ہوش مند انسان ان دلائل کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور ہمیشہ کے لئے غلام