تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 320
اس لئے اپنے دین کی طرف لوٹ آئو۔لیکن مخالف حالات کے باوجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سچی ہوئیں اور قیاس کرنے والوں کے قیاسات غلط ثابت ہوئے۔عرب قبائل میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔مسلمانوں کو کوئی آنچ نہ آئی اور اس کے بعد ایسے حالات ہوئے کہ مکہ فتح ہوا۔اسلام نے ترقی کی اور کسریٰ اور قیصر کے محلات مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔وہیری اور اس کے ہم خیال یہ بتائیں کہ کیا یہ قیاسات ہیں؟ پھر ان باتوں کو بھی جانے دیجئے۔ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ یہ باتیں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنالیں۔لیکن ان خبروں کے متعلق کیا کہو گے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے متعلق بیان فرمائیں۔مثلاً فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جبکہ مسلمان نام کے مسلمان رہ جائیں گے اور اسلامی حکومتیں ختم ہو جائیں گی اور عیسائی کثرت سے پھیل جائیں گے اور آخر اللہ تعالیٰ اسلام کو دوبارہ ترقی دینے کے لئے مہدی اور مسیح کو مبعوث کرے گا(مشکٰوۃ کتاب العلم و شعب الایمان للبیھقی )۔پس وہیری اورا س کے متبعین بتائیں کہ یہ خبریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قیاس سے معلوم ہو گئیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو امور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے وہ سب خدائے علّام الغیوب سے معلوم کر کے بتائے وہ آپ کا قیاس نہیں تھا۔پس سورۃ نصر کے متعلق یہ کہنا کہ یہ حالات کو دیکھ کر بنائی گئی تھی محض تعصّب یا غلط فہمی ہے۔وہیری نے سورہ نصر کا زمانۂ نزول ۸ھ مقرر کیا ہے۔یہ زمانۂ نزول ہماری تحقیقات کے لحاظ سے گو غلط ہے۔جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا گیا ہے۔لیکن اگر یہی زمانۂ نزول مانا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہا تھا وہ پورا ہوا اور جو بات سورۃ نصر میں بیان ہوئی تھی کہ گروہ در گروہ لوگ اسلام میں داخل ہوں گے وہ ۹،۱۰ھ میں پوری ہو گئی۔اور یہ بات واضح ہوگئی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری بیان کردہ ترتیب کے مطابق یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ خاص طور پر تعلق رکھتی ہے کیونکہ ہماری تحقیقات میں تیسویں پارے کے آخر میں سورتوں کی ترتیب اس طور پر ہے کہ ایک سورۃ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اولیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور اس کے بعد آنے والی سورۃ میں آپؐکی بعثتِ ثانیہ کا۔چنانچہ یہ ترتیب سورۃ البیّنہ سے شروع ہوتی ہے۔سورۃ البیّنہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ اولیٰ کا ذکر تھا اور سورۃ الزلزال میں آپؐکی بعثتِ ثانیہ کا ذکر کیا گیا ہے۔اور اس طرح آگے ترتیب چلتی چلی گئی ہے۔لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ جس سورۃ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ کا ذکر آتا ہے اس میں آخری زمانہ کا ذکر نہیں ہوتا اور نہ یہ کہ جس سورۃ میں اسلام کے آخری زمانہ کا ذکر آتا ہے اس میں ابتدائی زمانہ کا ذکر نہیں ہوتا۔بالعموم