تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 314
درحقیقت صحابہ کا قیاس درست نہ تھا بلکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خداداد فراست سے جو بات معلوم کر لی وہی درست تھی کہ یہ تمثیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق ہے اور یہ کہ آپؐہی وہ شخص ہیں جن کو اختیار دیا گیا تھا اور آپؐنے اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کو پسند فرمایا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا رونا برمحل تھا۔جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بے تابی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا توآپ کی تسلی کے لئے فرمایا۔ابو بکر ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے سبقت قدمی کرتے ہوئے اپنے مال اور اپنی جان سے میری خدمت کی ہے اور اپنی قربانی کی وجہ سے یہ مجھے اتنے محبوب ہیں کہ اگر اللہ کے سوا کسی کو محبت کا انتہائی مقام دینا جائز ہوتا تو میں ان کو دیتا۔مگر اب بھی یہ میرے دوست اور صحابی ہیں اور اسلامی رشتہ اور اسلام کی پیدا کردہ محبت ہمیں ملائے ہوئے ہے۔پھر فرمایا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ آج سے سب لوگوں کی کھڑکیاں جو مسجد میں کھلتی ہیں بند کر دی جائیں سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے اور اس طرح آپ کے عشق کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داد دی۔کیونکہ یہ عشق کامل ہی تھا جس نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بتا دیا کہ اس فتح و نصرت کی خبر کے پیچھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے۔اور تبھی آپ نے بے اختیار ہو کر کہہ دیا فَدَیْنَاکَ بِاَنْفُسِنَا وَاَمْوَالِنَا وَاٰبَائِنَا وَاَوْلَادِنَا کہ اے کاش ہماری اور ہمارے عزیزوں کی جانوں کو قبول کرلیا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رہیں۔بخاری کی شرح ارشاد الباری میں اس حدیث کے ماتحت لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خطبہ اپنی وفات سے تین دن قبل دیا تھا۔گویا یہ خطبہ آخری وقت کا ہے اور اس خطبہ کی بناسورۃ نصر تھی۔پس سورۃ نصر کا نزول بھی وفات کے عرصہ کے قریب ہی ماننا پڑے گا وگرنہ یہ تو قیاس میں نہیں آسکتا کہ سورۃ نصر ۷، ۸ھ میں نازل ہو۔اور آپؐکو علم ہو جائے کہ اب میری وفات قریب ہے لیکن خطبہ تین چار سال بعد دیا جائے۔اوروفات بھی تین چار سال بعد واقع ہو۔پس مذکورہ بالا روایت کی موجودگی میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سورۃ نصر وفات کے قریبی عرصہ میں نازل ہوئی تھی اور روایات کے مطابق وہ حجۃ الوداع کا موقع ہی بنتا ہے۔گویا حج کے موقعہ پر سورۃ نصر نازل ہوئی اور حضورؐ نے یہ بات سمجھ لی کہ اب میری وفات کا وقت قریب ہے۔اور وحی نے بھی اس کو متعین کر دیا۔سو مدینہ پہنچ کر حضورؐنے صحابہ کرام کو اس کی اطلاع دے دی اور چند ہی دنوں بعد داغِ مفارقت دے کر اللہ تعالیٰ کے حضورچلے گئے۔تفاسیر میں بعض اور روایات بھی آتی ہیں جو مذکورہ بالا بیان کی تصدیق کرتی ہیں۔چنانچہ تفسیر روح البیان میں لکھا ہے۔قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ مَرِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَـخَرَجَ اِلَی النَّاسِ فَـخَطَبَـھُمْ وَوَدَّعَھُمْ ثُمَّ دَخَلَ الْمَنْزِلَ فَتُوَفِّیَ بَعْدَ اَیَّامٍ۔یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں