تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 313
اَنَّـھَا لَمَّا نَزَلَتْ خَطَبَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنَّ عَبْداً خَیَّرَہُ اللہُ بَیْنَ الدُّنْیَا وَبَیْنَ لِقَآئِہٖ فَاخْتَارَ لِقَآءَ اللہِ فَعَلِمَ اَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَقَالَ فَدَیْنَاکَ بِاَنْفُسِنَا وَاَمْوَالِنَا وَاٰبَائِنَا وَاَوْلَادِنَا۔(روح البیان سورۃ النصر) یعنی جب سورۃ نصرنازل ہوئی اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کر کے ایک خطبہ دیا اور تمثیلاً یہ بتایا کہ اب آپؐکی وفات کا وقت قریب ہے۔چنانچہ آپؐنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ خواہ وہ دنیا میں رہے اور خواہ اللہ تعالیٰ کے پاس چلا جائے۔تو اس بندے نے خدا تعالیٰ کے پاس جانے کو ترجیح دی۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ اس تمثیل کو سمجھ گئے اور بے تاب ہو کر کہنے لگے۔یارسول اللہ آپ پر ہماری جانیں، ہمارے ماں باپ اور بیوی بچے سب قربان ہوں۔آپؐکے لئے ہم اپنے اموال اور دوسری سب چیزیں قربان کر نے کے لئے تیار ہیں۔گویا جس طرح کسی عزیز کے بیمار ہونے پر بکرا ذبح کیا جاتا ہے اسی طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی اور سب عزیزوں کی قربانی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پیش کی اور خواہش کی کہ کاش حضور جیتے رہیں اور ہماری قربانی قبول کر لی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبہ کا ذکر بخاری میں بھی آتا ہے۔لیکن ان مذکورہ بالا الفاظ سے اس کے الفاظ کا قدرے اختلاف ہے۔بخاری میں بیان شدہ خطبہ کے الفاظ یہ ہیں :۔اِنَّ اللہَ خَیَّرَ عَبْدًا بَیْنَ الدُّنْیَا وَبَیْنَ مَا عِنْدَہٗ فَاخْتَارَ ذٰلِکَ الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللہِ۔قَالَ: فَبَکٰی اَبُوْبَکْرٍ فَعَجِبْنَا لِبُکَآئِہٖ اَنْ یُّـخْبِرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خُیِّرَ۔فَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھُوَ الْمُخَیَّرَ۔وَکَانَ اَبُوْبَکْرٍ اَعْلَمَنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اَمَنَّ النَّاسِ عَلَیَّ فِیْ صُـحْبَتِہٖ وَمَالِہٖ اَ بُوْبَکْرٍ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلًا غَیْرَرَبِّیْ لَاتَّـخَذْتُ اَبَا بَکْرٍ خَلِیْلًا وَلٰکِنْ اُخُوَّۃُ الْاِسْلَامِ وَمَوَدَّتُہٗ لَا یَبْقَیَنَّ فِیْ الْمَسْجِدِ بَابٌ اِلَّا سُدَّ اِلَّا بَابَ اَبِیْ بَکْرٍ۔( بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم باب قَوْلِ النَّبِیِّ سُدُّوا الْاَبْوَابَ اِلَّا بَابَ اَبِیْ بَکْرٍ) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اپنی رفاقت اور دنیوی ترقیات میں سے ایک کے انتخاب کی اجازت دی اور اس نے خدا تعالیٰ کی رفاقت کو ترجیح دی۔دوسرے صحابہ تو اس تمثیل کو نہ سمجھ سکے۔لیکن حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی چیخیں نکل گئیں۔صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے بندے کا ذکر فرما رہے ہیں جس کو اختیار دیا گیا ہے کہ خواہ وہ اس دنیا میں رہے اور فتوحات سے لذت اٹھائے اور خواہ اللہ تعالیٰ کے پاس آجائے۔بھلا یہ کون سا رونے کا مقام ہے کیونکہ اسلام کی فتوحات کا وعدہ پیش کیا جارہا ہے۔راوی بیان کرتا ہے کہ