تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 315
جب سورۃ نصر نازل ہوئی تو اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کا حملہ ہوا اور اس بیماری کے دوران میں آپؐگھر سے باہر تشریف لائے اور صحابہ ؓ کے مجمع میں ایک تقریر فرمائی اور اپنی موت کی خبر دے کر ان کو الوداع کہا پھر گھرتشریف لے گئے اور اس واقعہ کے چند ہی دنوں بعد آپؐکیوفات ہو گئی۔اس روایت سے بھی ہمارے اوپر کے بیان کی پوری تصدیق ہوتی ہے کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایا م میں نازل شدہ ہے۔سورۃ نصر کے وقت نزول کی تعیین میں مفسرین کی لغزش ہمارے اکثر مفسر ایسے ہیں جنہوں نے اس واضح حقیقت کو چھوڑ کر محض ایک دوسرے کی تقلید کرتے ہوئے سورۃ نصر کو ۸ھ یا اس سے قبل کی نازل شدہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ تفسیر رازی میںلکھا ہے۔اَلْاَصَـحُّ ھُوَ اَنَّ السُّوْرَۃَ نَزَلَتْ قَبْلَ فَتْحِ مَکَّۃَ۔کہ صحیح بات یہ ہے کہ سورۃ نصر فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی تھی۔اسی طرح تفسیر روح البیان میں لکھا ہے۔اِنَّ السُّوْرَۃَ نَزَلَتْ قَبْلَ فَتْحِ مَکَّۃَ کَمَا عَلَیہِ الْاَکْثَـرُ کہ یہ سورۃ فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی تھی جیسا کہ اکثر مفسرین کی رائے ہے۔یہ مفسرین جنہوں نے سورۃ نصر کے نزول کے متعلق ان روایات کو ترجیح دی ہے جن میں اس کے نزول کو فتح مکہ سے قبل بتایا گیا ہے۔یہ کسی چھان بین کے نتیجہ میں نہیں یعنی وہ تفتیش اور بحث و تمحیص کے بعد اس نتیجہ پر نہیں پہنچے کہ یہ روایات درست ہیں اور دوسری غلط ہیں۔بلکہ اس کی وجہ درحقیقت ان کی ایک مشکل تھی جس کو وہ حل نہ کرسکے۔اور مجبور ہوگئے کہ اس سورۃ کو فتح مکہ سے قبل کی نازل شدہ قرار دیں اور وہ وجہ یہ تھی کہ عربی زبان میں یہ قاعدہ ہے کہ جب فعل ماضی سے پہلے اِذَا آجائے تو اس کے معنے عام طور پر مستقبل کے ہوجاتے ہیں اور چونکہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ کی آیت میں اِذَا فعل ماضی پر آیا ہے۔اس لئے اس آیت میں مفسرین نے مستقبل کے معنے کرتے ہوئے آیت کا یہ مفہوم قرار دیا کہ اسلام کو آئندہ زمانہ میں فتح اور نصرت حاصل ہو گی او ریہ کہ اسلام میںکثرت سے لوگ داخل ہوں گے۔اور چونکہ یہ ضروری ہے کہ پیشگوئی اس واقعہ سے پہلے ہو جس پر اس کو چسپاں کیا جاتا ہے وگرنہ وہ پیشگوئی نہیں رہتی۔اس لئے ایک طرف تو ہمارے مفسرین نے اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ کی آیت کو پیشگوئی قراردیا۔اور دوسرے طرف انہوں نے اس آیت میں اَلْفَتْحُ سے مراد فتح مکہ اور رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا سے فتح مکہ کے بعد کثرت سے اسلام میں داخل ہونے والے لوگ مرادلے لئے۔اب اگر مفسرین اس سورۃ کا نزول حجۃ الوداع میں مانتے تو یہ آیت پیشگوئی کی حامل قرار نہ پاتی۔کیونکہ اس کا مصداق پہلے آچکا تھا یعنی حجۃ الوداع ۱۰ ھ میں ہواہے اور فتح مکہ ۸ہجری میں۔پس مفسرین کی بات تبھی بن سکتی تھی