تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 312
تیسری روایت اس سورۃ کے نزول کے متعلق یہ آتی ہے کہ عَنِ ابْنِ عُـمَرَ قَالَ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ نَزَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْسَطَ اَیَّامِ التَّشْـرِیْقِ بِـمِنیً وَھُوَ فِیْ حَـجَّۃِ الْوَدَاعِ۔( در منثور سورۃ النّصر) یعنی حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حجۃ الوداع کے موقعہ پر مِنٰی کے میدان میں نازل ہوئی۔( فتح البیان ) اور اس سورۃ کے نزول کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسّی دن زندہ رہے اور بعض کہتے ہیں کہ ستر دن زندہ رہے۔ان سب روایات پر غور کرنے سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس سورۃ کا حجۃ الوداع کے موقعہ پر نازل ہونا ہی درست ہے۔کیونکہ دوسری روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔چنانچہ درمنثور میں یہ روایت آتی ہے کہ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نُعِیَتْ اِلَیَّ نَفْسِیْ اَنِّیْ مَقْبُوْضٌ فِیْ تِلْکَ السَّنَۃِ۔( در منثور سورۃ النّصر) یعنی ابن عباس کہتے ہیں کہ جب سورۃ نصر نازل ہوئی تو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھ لیا کہ چونکہ میرا کام اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کر نا اور اسلام کو پھیلانا تھا اور اب جوق در جوق لو گ اسلام میں داخل ہونے لگ گئے ہیں اور اسلام دنیا میں پھیل گیا ہے اس لئے جتنا کام خدا تعالیٰ نے لینا تھا وہ لے لیا ہے اور آپؐ اب خدا تعالیٰ کے پاس جانے والے ہیں اور آپؐکی وفات کا وقت قریب ہے۔پھر آپؐکو خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ آپؐاسی سال وفات پاکر اللہ تعالیٰ کے حضورپہنچ جائیں گے۔مذکورہ بالا روایت سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اگر سورۃ نصر ۷ھ یا ۸ ھ میں نازل شدہ ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اَنِّیْ مَقْبُوْضٌ فِیْ تِلْکَ السَّنَۃِ یعنی میں اس سال وفات پا جائوں گا کبھی بھی واقعات سے تطابق نہ پاسکتا۔کیونکہ آپؐکی وفات ۱۱ ھ میں ہوئی ہے اور ۷،۸ھ میں اور ۱۱ ھ میں تین چار سال کا فرق ہے نہ کہ ایک سال کا۔آپؐکے یہ الفاظ واقعات کے لحاظ سے تبھی درست ہوسکتے ہیں جبکہ آپؐنے یہ الفاظ ۱۰ھ میں فرمائے ہوں۔گویا حسابی لحاظ سے بھی حجۃ الوداع کا موقعہ ہی صحیح قرار پاتا ہے جب کہ یہ سورۃ نازل ہوئی۔پس اس سورۃ کے حجۃ الوداع کے موقعہ پر نازل ہونے کی روایت ہی درست معلوم ہوتی ہے۔اس روایت سے یہ بھی ظاہرہوتا ہے کہ ابن عباسؓ کی طرف منسوب شدہ پہلی روایت جس میں اس سورۃ کا جنگِ حنین سے واپسی پر نازل ہونا قرار دیا گیا ہے درست نہیں۔کیونکہ ایک ہی شخص کے دوبیان بیک وقت نہیں ہو سکتے۔دوسری روایت جو اس بات کا فیصلہ کر دیتی ہے کہ سورۃ نصر حجۃ الوداع کے موقعہ پر ہی نازل ہوئی تھی یہ ہے کہ