تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 308

اس کے مقابل منکرین اسلام کی سکیم محض رسم و رواج کی ترویج یا ایک قوم اور خاندان کے لئے فائدہ حاصل کرنے کی جد وجہد ہے۔پس ان حالات میں جبکہ دونوں فریقوں کا مقصود علیحدہ علیحدہ ہے۔کیوں کر اجتماع فی العبادۃ ہو سکتا ہے۔گیارہویں معنے دِیْن کے اَلْعَادَۃُ کے ہیں۔عادت اور سیرت درحقیقت ایک ہی مفہوم رکھتی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ بعض اوقات انسان کوئی کام اس لئے کرتا ہے کہ اس کے اندر سے ایک رو پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات کوئی کام بیرونی اثرات کے ماتحت کیا جاتا ہے۔پس جو کام تو اندرونی شعور کے ماتحت کیا جائے وہ سیرت کہلاتا ہے اور جو بیرونی اثرات کے ماتحت کیا جائے وہ عادت کہلاتا ہے۔دِیْن کے ان معنوں کے لحاظ سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِکا یہ مفہوم ہو گا کہ اے منکرو! تمہارے لئے تمہاری عادات ہیں اور میرے لئے میری عادات۔یعنی تمہاری عادات میری عادات سے بالکل مختلف ہیں۔تمہاری عادات اپنے باپ دادا کی تقلید کے ماتحت ہیں۔جنہوں نے کسی عقلی وجہ پر اپنے لئے قانون نہیں بنایا تھا۔لیکن میری عادات ان احکام پر عمل کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہوئی ہیں جو حکیم خدا کی طرف سے زبردست حکمتوں کے ماتحت نازل ہوئے ہیں۔تم رسم و رواج کے بندے ہو۔جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔اس کو اپنا لیا اور عادت بنا لیا خواہ وہ عادات صریح طور پر تباہی کی طرف لے جانے والی ہوں۔اس کے مقابل پر میری عادات کا منبع اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے صِبْغَۃَ اللّٰہِ (البقرۃ:۱۳۹) یعنی تم اپنے اندر اللہ کی صفات پیدا کرو۔سو میں نے اپنی عادات کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے ماتحت ڈھالا ہے اور وہ عادات اس فطرت صحیحہ کے مطابق ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا ( الرّوم:۳۱) یعنی انسان فطرت صحیحہ پر پیدا کیا گیا ہے اور پھر اسلام کے صحیح ماحول میں رہنے کی وجہ سے اس کی فطرت صحیح طور پر نشو نما پاتی ہے اور الٰہی تعلیم کا پانی جب اسے دیا جاتا ہے تو وہ بہترین نشو نما پا کر بہترین پھل لاتا ہے جس سے اس کے اپنے رشتہ دار و اقارب اور دیگر لوگ پورا فائدہ حاصل کرتے ہیں اور وہ بہترین سوسائٹی کا ایک بہترین فرد ہوتا ہے۔لیکن تمہارے ہاں پیدا ہونے والا بچہ آتا تو بہترین فطرت کے ساتھ ہے مگر اَبَواہُ یُـھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُـمَجِّسَا نِہٖ اَوْ یُنَصِّـرَانِہٖ۔(الطبرانی فی الجامع الکبیر بـحوالہ جامع الصغیر حرف الکاف) اگر وہ یہودیوں کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو ان میں رائج شدہ عادات کو لے لیتا ہے اور اگر وہ مجوسیو ں کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو ان کی عادات کا عادی ہو جاتا ہے اور اگر وہ نصاریٰ کے ہاں جنم لیتا اور پرورش پاتاہے تو ان کی عادات کا