تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 307
یہودیت، عیسائیت او ردیگر مذاہب ایک ایک قوم کے لئے ہیں۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ۔(سبا:۲۹ ) اے ہمارے رسول ہم نے تجھے ساری دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :۔اُعْطِیْتُ خَمْساً لَمْ یُعْطَھُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ نُصِـرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھُوْرًا وَّ اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَآئِمُ وَاُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ وَکَانَ النَّبِيُّ یُبْعَثُ اِلٰی قَوْمِہٖ خَاصَۃً وَّبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً ( بخاری کتاب الـتیمم باب التیمم )وَّ فِیْ روَایَۃٍ بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْـمَرِ وَالْاَسْوَدِ۔(مسند احـمد مسند عبد اللہ بن عباس) یعنی مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں۔مجھے ایک ماہ کی مسافت تک خدا داد رعب عطا کیا گیا ہے۔(۲) میرے لئے تمام زمین مسجد او رطہارت کا ذریعہ بنائی گئی ہے۔(۳) میرے لئے جنگوں میں حاصل شدہ مال غنیمت جائز قرار دیا گیا ہے یعنی موسیٰ علیہ السلام کو حکم تھا کہ جو اموال دشمن کے ان کے ہاتھ آئیں۔ان کو جلا کر راکھ کر دیا جائے مگر مجھے اجازت دی گئی ہے کہ خواہ میں ان اموال کو اپنے ان فوجیوں میں تقسیم کر دوں جو بغیر کسی تنخواہ کے دفاع ملک کے لئے لڑتے ہیں اور خواہ دشمن کو مال لَوٹا دوں۔(۴) مجھے شفاعت کا مقام عطا کیا گیا ہے۔(۵) مجھ سے پہلے ہرنبی اپنی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا۔مگر مجھے سب بنی نوع انسان کے لئے مبعوث کیا گیا ہے اور ایک روایت میں یہ آتا ہے کہ میں اسود و احمر یعنی سیاہ و سفید سب کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔پس محمدی سکیم یہ ہے کہ ساری دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور متفرق لوگوں کو جو دنیا کے خواہ کسی کونے میں رہتے ہوں۔خدائے واحد کے آستانہ پر لاکھڑا کیاجائے تا سب کا ایک نقطۂ نگاہ ہو اور ایک ہی مقصد ہو تاسب دنیا مساوی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔لَیْسَ لِلْعَرَبِیِّ عَلَی الْعَجَمِيِّ فَضْلٌ یعنی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ سب قومیں جو عرب کے سواہیں ان کا بھی معیار اونچا کیا جائے تا عربی اور عجمی سب ترقی کی راہوں پر گامزن ہوں۔پس مسلمانوں کی سکیم سب دنیا کو بہترین پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ہے۔