تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 298
کرے یعنی حکومت سے یہ عہد کرے کہ وہ کمائی کر کے آہستہ آہستہ اپنا فدیہ دےدے گا اور اسے آزاد کر دیا جائے۔چنانچہ وہ اس معاہدہ کے بعد فوراً آزاد ہو جائے گا اور قسط وار اپنا فدیہ اداکرے گا۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پرانے زمانہ میں جنگیں افراد کرتے تھے اور اپنے اخراجات جنگ وہ خود برداشت کرتے تھے۔اس لئے ان کا بوجھ اتارنے کے لئے دوسری قوم سے تاوان نہیں لیا جاتا تھا۔بلکہ افراد پر حسب طاقت تاوان ڈالا جاتا تھا۔اب چونکہ قومی جنگ ہوتی ہے اور حکومت خرچ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔لازماً اس نظام میں بھی موجودہ حالات کے لحاظ سے تبدیلی کرنی ہوگی۔اور قیدی سے تاوان نہیں لیا جائے گا بلکہ حملہ آور قوم سے بحیثیت قوم تاوان لیا جائے گا۔۳۔جب تک تاوان جنگ ادا نہ کرے اس سے خدمت لی جاسکتی ہے۔لیکن کام لینے کی صورت میں مندرجہ ذیل احکام اسلام دیتا ہے۔(ا) تم کسی قیدی سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لو۔(ب) جو کچھ خود کھائو وہی قیدی کو کھلائو۔اور جو کچھ خود پہنو وہی قیدی کو پہنائو۔(ج) کسی قیدی کو مارا پیٹا نہ جائے۔(د) اگر کوئی شادی کے قابل ہو۔اور انہیں علم نہ ہو کہ کب تک وہ جنگی قیدی رہیں گے تو ان کی شادی کردو۔یہ اصول نہایت ہی عادلانہ اور اعلیٰ درجہ کے ہیں۔اس زمانہ میں حکومتیں متمدن سمجھی جاتی ہیں لیکن جنگی قیدیوں کے ساتھ ان کا سلوک اسلامی تعلیم کے مقابلہ میں بہت ہی ناقص ہے۔مثلاً ان کے ہاں احسان سے چھوڑنا نہیں پایا جاتا۔تاوان جنگ لینا مقدم سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح خوراک اور پوشاک کے معاملہ میں انہیں وہ کچھ کھلایا اور پہنایا نہیں جاتا جو خود آزاد لوگ کھاتے پیتے اور پہنتے ہیں۔پھر جنگی قیدیوں کی شادی کرانا تو کجا ان کی اپنی بیویوں کو بھی پاس آنے نہیں دیتے۔الغرض اسلام کے پیش کردہ قوانین باقی تمام قوانین پر فضیلت رکھتے ہیں۔پھر اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ اگر جنگ ہو تو بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں اور مذہبی خدمت پر مامور لوگوں کو کچھ نہ کہا جائے۔اسی طرح مذہبی عبادت خانوں کی حفاظت کی جائے ( مسلم۔طحاوی۔ابو دائود ) نیز یہ بھی کہا ہے کہ مذہبی امور میں پوری آزادی ہونی چاہیے۔کسی پر جبر نہ کیا جائے۔پھر بار بار قرآن کریم میں معاہدات کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔آج کل کی حکومتیں معاہدات تو کر لیتی ہیں