تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 299

لیکن خفیہ طور پر ان کے ارادے کچھ اور ہوتے ہیں۔لیکن اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر معاہدہ ہو تو اس کی پابندی کرو۔اور اگر خطرہ ہو کہ معاہد قوم شرارت کرے گی تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اچانک اس پر حملہ نہ کرو۔بلکہ پہلے نوٹس دوکہ ہم معاہدہ ختم کرتے ہیں۔کیونکہ تمہاری طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اس کا اعلان کرنے کے بعد اگر پھر بھی وہ باز نہ آئیں تو پھر بے شک جنگ کر سکتے ہو۔یوں ہی نہیں۔چنانچہ فرمایا:۔وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَآىِٕنِيْنَ۠ (الانفال:۵۹) کہ اگر کسی معاہد قوم کی طرف سے یہ خطرہ ہو کہ وہ معاہدہ کی پروا کئے بغیر حملہ کر کے خیانت کی مرتکب ہو گی۔تو مساوات کا لحاظ رکھ کر ان کے عہد کو انہی کی طرف واپس پھینک دو۔بےشک اللہ تعالیٰ دغابازوں اور معاہدہ توڑنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔پھر فرمایا کہ اگر کوئی قوم صلح کرنا چاہے تو صلح کر لینا۔یہ نہیں کہ ان کا ضرور مقابلہ کیا جائے۔چنانچہ فرماتا ہے :۔اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ (الانفال:۶۲) اے مسلم ! اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف جھکو اور اللہ کی مدد اور اس کی حفاظت پر بھروسہ رکھو۔پھر اسلامی حکومت کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ کسی قوم کو حقیر نہ سمجھا جائے۔جیسے آج کل کی متمدن کہلانے والی حکومتیں کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ فلاں کالے رنگ کے لوگ ہیں۔اس لئے ان کے انسانیت کے کوئی حقوق نہیں اور ان کو ہم اپنا غلام سمجھتے ہیں۔چنانچہ فرمایا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ (الحجرات:۱۲) کہ کوئی قوم دوسری قوم کو حقیر سمجھ کر اس کو پامال نہ کرے شاید وہ کل کو اس قوم سے اچھی ہو جائے۔پھر چونکہ ضروری نہیں کہ ایک وقت میں ساری دنیا میں ایک ہی نظام ہو۔اس لئے قرآن کریم نے یہ تعلیم دی ہے کہ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ (الحجرات:۱۰) یعنی اگر دو قومیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرا دو۔یعنی دوسری قوموں کو چاہیے کہ بیچ میں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو جنگ کی وجہ ہو اس کو مٹائیں اور ہر ایک کو اس کا حق دلائیں۔لیکن اگر باوجود اس کے ایک قوم باز نہ آئے اور مشترکہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے۔تو اس قوم سے جو زیادتی کرتی ہے سب دوسری قومیں مل کر لڑیں۔یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف لوٹ آئے یعنی ظلم کا خیال چھوڑ دے۔پس اگر وہ اس