تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 297

پھر اگر کوئی قوم حملہ کرے اور دفاع کے وقت مغلوب ہو جائے تو موجودہ حکومتوں کی طرح یہ اجازت نہیں دی گئی کہ مفتوحین سے عدل نہ کیا جائے اور ان کو معاف نہ کیا جائے بلکہ اسلامی حکومت کو یہی حکم ہے کہ وہ عدل سے کام لے۔چنانچہ فرمایا :۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١ٞ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ١ٞ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ( المآئدۃ:۹) اے مومنو! اپنے تمام کاموں کو خدا کے لئے سر انجام دو اور انصاف سے دنیا میں معاملہ کرو اور کسی قوم کی دشمنی تم کو اس امر پر نہ اُکسا دے کہ تم عدل کا معاملہ نہ کرو تم بہر حال انصاف سے کام لو۔یہ بات تقویٰ کے مطابق ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنائو۔اللہ تعالیٰ اس سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے۔پس اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ (۱) کسی ملک کو غصب کرنے کے لئے حملہ نہ کرو۔(۲) اگر دفاعی جنگ کرنی پڑے۔تب بھی دشمن کے مغلوب ہونے پر انصاف سے کام لو۔پھر یہ حکم ہے کہ اگر دفاعی جنگ کرنی پڑے تو جب تک خون ریز جنگ نہ ہو کوئی قیدی نہ پکڑے جائیں۔(الانفال:۶۸) اور جب خون ریز جنگ ہوجائے اور جنگی قیدی پکڑ لئے جائیں توان کے متعلق حسب ذیل احکام دیئے گئے ہیں۔جنگی قیدیوں کے متعلق اسلام کے احکام ۱۔یا تو ان قیدیوں کو احسان کر کے چھوڑ دیا جائے ( سورۂ محمدؐ) اوریہ ایسے قیدیوں کے متعلق ہی ہو سکتا ہے جو اپنی غلطی کا اقرار کریں اور آئندہ جنگ میں شامل نہ ہونے کا معاہدہ کریں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک قیدی ابو عزہ نامی کو رہا کیا۔یہ شخص جنگ بدر میں پکڑا گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ عہد لے کر چھوڑ دیا تھا کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔مگر وہ جنگ اُحد میں مسلمانوں کے خلاف پھر لڑنے کے لئے نکلا اور آخر حمراء الاسد کی جنگ میں مارا گیا۔( شرح زرقانی، غزوۃ حمراء الاسد) ۲۔اگر اسلامی حکومت کی مالی حالت ایسی نہ ہو کہ وہ احسان کر کے چھوڑ دے تو پھر قیدی کو حق ہے کہ وہ فدیہ دے کر اپنے آپ کو چھڑا لے۔لیکن اگر قیدی کو فدیہ کی طاقت نہ ہو تو پھر حکم ہے کہ اسلامی ملک کی زکوٰۃ میں سے اگر ممکن ہو تو اس کا فدیہ دے کر اس کو آزاد کردیا جائے۔اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو قیدی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مکاتبت