تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 293
اور اس شخص کا فرض ہو گا کہ اپنی ساری عمر کو ملک کی بہتری کے لئے صَرف کر دے نہ کہ اپنی بڑائی کے حصول کے لئے۔لیکن یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ خلافت روحانی اور ملکی اختیارات ایک شخص کے ہاتھ میں ہوں۔دوسری صورت میں جبکہ صرف ملکی اختیارات کا سوال ہو۔پریذیڈنٹ یا صدر مملکت تھوڑے عرصہ کے لئے بھی مقرر کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے انتخاب میں پھر بھی یہی بات مدّ ِنظر رہنی چاہیے کہ اس کا انتخاب موجودہ مغربی ممالک کی پارٹی بازی کے طریق پر نہ کیاجائے بلکہ خالصۃً اہلیت کو مدّ ِنظر رکھا جائے۔اور یہ کوشش کی جاتی رہے کہ ہمیشہ ملک کا بہترین دماغ قومی خدمت کے لئے آگے آتا رہے۔پس اسلامی اصول حکومت آج کل کے متمدن ممالک کے اصولوں سے مختلف ہیں اور ان سے بہتر ہیں۔اور ہمارے نزدیک جمہوریت کے مدعی ممالک میں جو طریق حکومت رائج ہے وہ درست نہیں۔پھر اسلام کا حکم ہے کہ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ (الشورٰی: ۳۹) کہ حکومت کے معاملات مشورہ سے طے ہونے چاہئیں۔یعنی منتخب شدہ شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک مجلس شوریٰ کے ذریعہ سے ملک کی عام رائے کو معلوم کرتا رہے اور جب ضرورت ہو عام اعلان کر کے تمام افراد سے ان کی رائے دریافت کرے۔تاکہ اگر کسی وقت ملک کے نمائندوں اور ملک کی عام رائے مخالف ہو جائے تو ملک کی عام رائے کا علم ہو سکے۔پھر اگر نیابتی فرد کے وجود میں روحانی اور ملکی اختیارات دونوں جمع ہوں۔تو وہ مشیرکاروں کی کثرت رائے کو ردّ کرسکتا ہے۔کیونکہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص نصرت ملتی ہے اور اس کو ہر قسم کی سیاسی جنبہ داری سے بالا سمجھا جاتا ہے اور اس کی رائے کی نسبت یقین کیاگیا ہے کہ وہ تعصب سے پاک ہو گی اور محض ملک و ملت کا فائدہ اسے مدّ ِنظر ہو گا۔لیکن اگر وہ انتخابی فرد صرف پریذیڈنٹ یا صدر مملکت ہو تو وہ اس آئین کا پابند ہو گا جس کے ماتحت اس کا تقرر ہوا۔پھر اسلام نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسلامی حکومت اس بات کی ذمہ دار ہے کہ وہ ہر اک شخص کے لئے خوراک، لباس اور مکان مہیا کرے۔یہ ادنیٰ سے ادنیٰ ضروریات ہیں جن کا پورا کرنا حکومت کے ذمہ ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ چیز جس کی حفاظت اس کے سپرد کی گئی ہے زندہ نہیں رہ سکتی۔مکان اور خوراک کے بغیر جسمانی زندگی محال ہے اور لباس کے بغیر اخلاقی اور تمدنی زندگی محال ہے۔اسلام کا یہ حکم قرآن کریم کی اس آیت میں پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَ لَا تَعْرٰى وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِيْهَا وَ لَا تَضْحٰى ( طٰہٰ:۱۱۹،۱۲۰) یہ آیت آدم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے آئی ہے۔