تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 292
ہے جن کو بوجہ بہت سے لوگوں کے اشتراک کے لوگ فرداً فرداً ادا نہیں کر سکتے۔اس لئے اس کو امانت خیال کرنا چاہیے۔کیونکہ وہ حقوق و فرائض جن کے مجموعہ کا نام حکومت ہے کسی خاص شخص کی ملکیت نہیں۔بحیثیت مجموعی جماعت ان کی مالک ہے۔چوتھا حکم حاکم کو یہ دیا گیا ہے کہ جو کچھ تم کو دیا جاتا ہے۔وہ چونکہ بطور امانت کے ہے اس لئے اس کو اسی طرح محفوظ بلا خراب یا تباہ کرنے کے اپنی موت کے وقت واپس دینا ہوگا۔یعنی حکومت کی پوری حفاظت اور اہل ملک کے حقوق کی نگرانی رکھنی ہو گی۔اور یہ تمہارا اختیار نہ ہوگا کہ اس حق کو ضائع کردو۔پانچواں امر اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ حکام کو چاہیے کہ دوران حکومت میں لوگوں کے حقوق کو پوری طرح ادا کریں اور کسی قسم کا فساد پیدا نہ کریں۔یہ نہ ہو کہ کسی فرد کی ناجائز طرف داری کرتے ہوئے اسے بڑھا دیں اور کسی کو نیچے گرا دیں۔کسی قوم کو اونچا کر دیں اور کسی قوم کو نیچا کر دیں۔کسی قوم میں تعلیم پھیلا دیں اور کسی قوم کو جاہل رکھیں۔کسی کی اقتصادی ضروریات کو پورا کریں اور کسی کی اقتصادی ضروریات کو نظر انداز کر دیں۔بلکہ جب لوگوں کے حقوق کا فیصلہ کیا جائے تو ہمیشہ عدل اور انصاف سے فیصلہ کیا جائے۔رعایت یا بے جا طرف داری سے کام نہ لیا جائے۔الغرض اسلام یہ کہتا ہے کہ حکومت انتخابی ہونی چاہیے اور ساتھ ہی نیابتی بھی۔یعنی حکمران ملک کے لوگوں کا ان کی مجموعی حیثیت میں نہ کہ بحیثیت افراد نائب ہے۔پھر جو شخص منتخب ہو۔وہ حکومت کو اپنی اولاد میں نسلاً یا وراثۃً منتقل نہیں کر سکتا۔بلکہ اس کی وفات پر وہ امانت قوم کے سپرد ہو گی اور قوم جس کو اس کا اہل سمجھے گی انتخاب کر ے گی۔یورپ اور دیگر ممالک میں آج کل یا توڈکٹیٹرشپ ہے یا وراثتی بادشاہت یا خالصۃً جمہوریت۔لیکن اسلام ڈکٹیٹرشپ اور وراثتی بادشاہت کے بالکل خلاف ہے۔اسلام جمہوریت کو پیش کرتا ہے۔لیکن اس جمہوریت سے قدرے مختلف جس کو آج کل کے متمدن ممالک اپنی فوقیت کی دلیل قرار دیتے ہیں۔ان ممالک میں پارٹی بازی ہوتی ہے اور ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ ان کی پارٹی کا لیڈر منتخب ہو جائے۔خواہ قابل اور حکومت کا اہل دوسرے فریق کا لیڈر ہو۔لیکن اسلام اس بات کے بالکل خلاف ہے۔اسلام کہتا ہے کہ فرقہ وارانہ جذبات سے الگ ہو کر محض قابل، لائق اور اہل شخص کو منتخب کیا جائے۔پھر ان ممالک میں پریذیڈینٹوں کا انتخاب محض چند سالوں کے لئے ہوتا ہے اور اس کے بعد ایک قابل دماغ بے کار ہو جاتا ہے اور اس کو ٹھکرا دیا جاتا ہے۔لیکن اسلامی آئین کی رُو سے جو منتخب ہو گا وہ ساری عمر کے لئے ہو گا۔