تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 294

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے آدم ہم نے تمہارے جنت میں رکھے جانے کا فیصلہ کر دیا ہے۔تم اس میں بھوکے نہیں رہوگے، تم اس میں ننگے نہیں رہو گے، تم اس میں پیاسے نہیں رہو گے اور تم اس میں رہنے کی وجہ سے دھوپ میں نہیں پھروگے۔لوگ اس آیت سے غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مرا د اخروی جنت ہے اور آیت کا یہ مطلب ہے کہ جب انسان جنت میں جائے گا تو وہاں اس کا یہ حال ہوگا۔حالانکہ قرآن کریم سے صاف ظاہر ہے کہ آدم اسی دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً (البقرۃ:۳۱) میں دنیا میں اپنا خلیفہ مقررکرنے والاہوں۔اور دنیا میں جو شخص پیدا ہوتا ہے۔وہ بھوکا بھی ہو سکتا ہے، وہ پیاسا بھی ہو سکتا ہے، وہ ننگا بھی ہوسکتا ہے، وہ دھوپ میں بھی پھر سکتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ دنیا میں تو پیدا ہو اور بھوک اور پیاس اور لباس اور مکان کی ضرورت اسے نہ ہو۔اور جبکہ یہ آیت اسی دنیا کے متعلق ہے تو لازماً ہمیں اس کے کوئی اور معنے کرنے پڑیں گے اور وہ معنے یہی ہیں کہ ہم نے اپنا پہلا قانون جو دنیا میں نازل کیا۔اس میں ہم نے آدمؑ سے یہ کہہ دیا تھا کہ ہم ایک ایسا قانون تمہیں دیتے ہیں کہ جو تجھ کو اور تیری امت کو جنت میں داخل کر دے گا اور وہ قانون یہ ہے کہ ہر ایک کے کھانے پینے، لباس اور مکان کا انتظام کیا جائے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص بھوکا نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ سوسائٹی کاکام ہے کہ ہر ایک کے لئے غذا مہیا کرے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص ننگا نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہیے کہ ہر ایک کے لئے کپڑا مہیا کرے۔آئندہ تم میںسے کوئی شخص پیاسا نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہیے کہ وہ تالابوں اور کنوئوں وغیرہ کا انتظام کرے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص بغیر مکان کے نہیں رہنا چاہیے۔بلکہ یہ سوسائٹی کاکام ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایک کے مکان کا انتظام کرے۔گویا یہ وہ پہلا تمدّن ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ دنیا میں قائم کیا گیا۔اور اللہ تعالیٰ نے دنیا پر اس حقیقت کو ظاہر فرمایا کہ خدا سب کا خدا ہے۔وہ امیروں کا بھی خدا ہے، وہ غریبوں کا بھی خدا ہے، کمزوروں کا بھی خدا ہے اور طاقتوروں کا بھی خدا ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ دنیا کا ایک طبقہ تو خوشی میںاپنی زندگی بسر کرے اور دوسرا روٹی اور کپڑے کے لئے ترستا رہے۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو آدم ثانی ہیں۔ان پر بھی قرآن کریم میں یہ آیات نازل کر کے آپ کو کہا گیا کہ آپ کو بھی ایسا تمدّن قائم کرنا ہو گا۔جس میں ہر ایک کے لئے لباس، مکان اور خوراک کا انتظام کیا جائے۔چنانچہ مدنی زندگی میں جب عرب کے علاقہ بحرین کا رئیس مسلمان ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایات بھجوائیں، اور لکھا :۔اِفْرِضْ عَلٰی کُلِّ رَجُلٍ لَیْسَ لَہٗ اَرْضٌ اَرْبَعَۃُ دَرَاھِمَ وَعَبَاءَۃٌ۔(شرح زرقانی، تابع الفصل السادس: فی امرائہٖ و رسلہ۔۔۔۔۔) یعنی جن لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے۔ان میں سے ہر ایک کو ملکی خزانہ میں سے چار درہم اور لباس