تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 277

ہدایت سے ہی پیدا ہو سکتا ہے اور رسم و رواج کی پیروی جبر و اکراہ سے ہوتی ہے نہ کہ بشاشتِ قلب سے۔(۲)پھر ایک حقیقی مسلم مشرکوں کے معبودوں کی اطاعت کر کیسے سکتا ہے جبکہ ان کی طرف منسوب ہونے والے خیالات وہموں کامجموعہ ہیں۔بتوں کے متعلق یہ خیالات کہ اگر ان کی عبادت نہ کی گئی تو نقصان پہنچائیں گے سوائے اوہام کے اور کیا قرار دیئے جا سکتے ہیںاور ایسے ہی اوہام کی بنا پر لوگ ان بتوں کے سامنے اپنی اولاد کی قربانی دے دیتے ہیں۔حالانکہ بت ان کے اپنے ہاتھوں کے تراشے ہوئے ہوتے ہیں۔پر وہ اس حقیقت کو سمجھتے نہیں۔حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ تھے اور ایک عرصہ تک مہاراجہ کشمیر کے طبیب خاص بھی رہے ان کو ایک دن مہاراجہ کشمیر نے کہا کہ آپ اور کچھ نہیں کرتے تو کالی دیوی کی پوجا تو ضرور کر لیا کریں کیونکہ وہ بڑی سخت ہے۔حضرت خلیفہ اوّل فرمانے لگے۔مہاراج یہ دیوی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتی۔تھوڑی دیر سوچنے کے بعد مہاراجہ خود ہی کہنے لگا کہ ہاں مولوی صاحب بات میری سمجھ میں آگئی جو شخص میری حکومت میں نہیں رہتا میں اس کو کوئی سزا نہیں دے سکتا۔اسی طرح چونکہ آپ کالی دیوی کی حکومت تسلیم نہیں کرتے اور اپنے آپ کو اس کی حکومت سے باہر قرار دیتے ہیں اس لئے وہ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔غرض بتوں کی طرف منسوب ہونے والی باتیں محض توہم پرستی کا نتیجہ ہوتی ہیں اور ایک غور و فکر کرنے والا انسان توہم پرستی کا شکار نہیں بن سکتا۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر ہند ہ جو ابو سفیان کی بیوی تھی اور مسلمانوں کی سخت مخالف تھی۔حتی کہ اس نے اپنی مخالفت کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ کچا چبا یا تھا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام غزوۃ احد)۔وہ عورتوں کے جھنڈ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی اور بغیر اپنا نام بتانے کے بیعت کر لی۔چونکہ وہ ایک دلیر عورت تھی اس لئے بیعت کے وقت خاموش نہ رہ سکی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے کہ اے عورتو! اقرار کرو کہ ہم شرک نہ کریں گی تو ہندہ بے ساختہ بول اٹھی کہ جب یہ واضح ہو چکا ہے کہ بتوں کی کچھ طاقت نہیں۔آپ کو خدا نے کامیابی و کامرانی دی اور ہم ذلیل ہوئے تو اب اس کے بعد ہم کس طرح شرک کر سکتی ہیں۔(السیرۃ الـحلبیۃ ذکر فتح مکۃ ) پس بتوں کی طرف منسوب ہونے والی تعلیم محض وہم ہوتی ہے۔قرآن کریم میں سور ہ ٔ انعام میں تفصیل کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مشرکوں میں بعض باتیں محض اوہام کی بنا پر رائج تھیں۔مثلاً یہ کہ اس اس قسم کے جانورفلاں قسم کے لوگ کھا سکتے ہیں اور فلاں قسم کے لوگ ان جانوروں کو نہیں