تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 278

کھا سکتے۔جن لوگوں کو منع کیا گیا ہے اگر وہ ان جانوروں کو کھائیں گے تو ان کو نقصان پہنچے گا۔اسی طرح بعض سواری کے جانوروں کو وہ محض اوہام کی بنا پر چھوڑ دیتے اور کہتے تھے کہ فلاں فلاں جانوروں پر سواری نہیں کرنی چاہیے۔اور جن جانوروں کو مشرک لو گ بتوں کا چڑھاوا قرار دے کر ان سے کام لینا حرام قرار دے دیتے تھے۔ان میں سے بعض دفعہ نر کو اور بعض دفعہ مادہ کو اور بعض دفعہ جو بچہ ان کے پیٹوں میں ہوتا اسے مردوں کے لئے حلال اور عورتوں کے لئے حرام قرار دے دیتے اور یہ سب کچھ وہم کا نتیجہ تھا اور کچھ نہیں۔کیونکہ ان کے پاس اس کی کوئی عقلی دلیل نہ تھی۔قرآن کریم ان کی رسوم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :۔ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَيْنِ۠ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَيَيْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ١ؕ نَبِّـُٔوْنِيْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَيْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَيْنِ۠ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَيَيْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ (الانعام:۱۴۴،۱۴۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے آٹھ جوڑوں کو پیدا کیا ہے۔دُنبہ میں سے دو کو اور بکرے میں سے دو کو (یعنی نر و مادہ کو)تُو ان سے کہہ کہ کیا اس نے دونروں کو حرام کیا ہے یا دو مادینوں کو یا اس چیز کو جو مادینوں کے رحموں میں پائی جاتی ہے۔اگر تم سچے ہو تو مجھے کسی علم کی بنا پر یہ بات بتاؤ۔اور اس نے اونٹ میں سے دو کو اور گائے میں سے دو کو پیدا کیا ہے (یعنی نر و مادہ کو)تُو ان سے کہہ کہ کیا اس نے دو نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادینوں کو یا اس چیز کو جو مادینوں کے رحموں میں پائی جاتی ہے۔کیا تم اس وقت جب تمہیں اللہ نے اس امر کا حکم دیا تھا موجود تھے؟ اگر نہیں تو پھر اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو جان بوجھ کر اللہ پر اس لئے جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو علمی دلیل کے بغیر گمراہ کر دے۔اللہ ظالم لوگوں کو یقیناً راہ نہیں دکھاتا۔ان آیات میں قرآن کریم نے مشرکوں کی جاری کردہ رسوم کو جو بتوں کے نام پر کی جاتی تھیں صرف وہموں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ بات صرف عرب کے ساتھ مخصوص نہیں تھی کہ وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں توہم پرستی تھی بلکہ اور ملکوں میں اب بھی ایسی رسومات پائی جاتی ہیں جو محض وہم کی بنا پر ہوتی ہیں۔