تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 276

ذریعہ لوگوں کو رسوم کے پھندے سے نکالا جائے۔چنانچہ فرمایا اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ١ٞيَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ وَ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف:۱۵۸) یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص طور پر ان لوگوں کو ملے گی جو کامل طور پر اس موعود رسول کی اطاعت کریں گے جس کی بعثت کی بشارات کو و ہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔وہ رسول وقت پر مبعوث ہو کر انہیں نیک کاموں کی تلقین کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتا ہے اور وہ ان سے سخت حکموں کے بوجھوں کو اور رسومات کے پھندوں کو جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے تھے دور کرتا ہے۔چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ایک غرض رسم و رواج کو مٹانا تھا۔اس لئے اسلام نے صرف رسوم کی مخالفت ہی نہیں کی بلکہ ان کو مختلف دلائل کے ذریعہ سے جڑ سے اکھیڑنے کی پوری کوشش کی ہے۔چنانچہ اس نقطۂ نظر کے ما تحت رسم و رواج کے پیچھے چلنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ (المآئدۃ:۱۰۵) یعنی جب لوگوں کو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اسی شریعت کی پیروی کروجو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے۔تو اس کے جواب میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ جن رسوم و عادات پر ہم نے اپنے باپ دادا کو چلتے ہوئے پایا وہی طریق ہمارے لئے کافی ہے۔کیا اپنے باپ دادا کی تقلید کا دعویٰ کرنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ ہو سکتا ہے کہ ان رسوم کے ترویج دینے والے نہ تو کوئی ذاتی علم رکھتے ہوں جس کی بنا پر انہوں نے ان رسوم کو چلایا اور نہ انہیں خدا کی طرف سے کوئی ہدایت ملی ہو کہ وہ ان رسوم کو رائج کریں۔بلکہ ان کی جاری کردہ رسوم سراسر جہالت پر مبنی ہوں تو کیا یہ لوگ پھر بھی لکیر کے فقیر بنے رہیں گے۔گویا اسلام رسم و رواج کی تقلید کرنے کو جہالت قرار دیتا ہے اور بار بار کہتا ہے کہ ہر کام کی بنیاد واقعات، حقائق اور بیّنات و شواہد پر ہونی چاہیے۔جیسے فرمایا اے ہمارے رسول اعلان کر دو کہ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ (یوسف:۱۰۹) میرے اور میرے متبعین کے عقائد کی بنیاد رسم و رواج پر نہیں بلکہ ہماری بنیاد حقائق و شواہد اور بیّنات پر ہے۔کیونکہ کامیابی رسم و رواج پر چل کر نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آمدہ ہدایت ہی کامیابیوں کے راستے کھولتی ہے۔پس اسلام رسم و رواج کو مٹاتا اور اس کی سخت مخالفت کرتا ہے اور رسم و رواج پر چلنے والوں اور اس کی ترویج کرنے والوں کو جاہل قرار دیتا ہے اور اس کے مقابل پر خدائی ہدایت پر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔کیونکہ حقیقی اطاعت کا مادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی