تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 275

لئے کوئی مشورہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔پس وہ تمام باتیں جو احکام کی تعمیل میں بشاشت قلبی اور حقیقی اطاعت کی روح پیدا کر سکتی ہیں صرف اسلام کی پیش کردہ تعلیم میں ہیں اور کسی مذہب کے احکام میں نہیں۔اس لئے شرک یا دوسرے مذاہب کی موجودہ حالت میں فرمانبرداری تو ہو سکتی ہے۔مگر اطاعت نہیں ہو سکتی جس چیز کو غیر مذاہب کے ماننے والے اطاعت کا نام دیتے ہیں وہ درحقیقت پیروی کرنا ہے جس کا نام غلطی سے اطاعت رکھ لیا گیا ہے۔مثلاً مشرکین کو لے لیں (اس سورۃ میں صرف مشرکین کا ذکر نہیں بلکہ سب کفار کا ذکر ہے)مشرکین کے مذہب کی بنیاد (۱)رسم و رواج پر (۲)اوہام پر اور (۳)دائمی زندگی کے انکار پر ہے۔اور شرح صدر اور احکام کی تعمیل کا شوق ان امور کی موجودگی میں نا ممکن ہے۔جو شخص صرف اس لئے کوئی کام کرتا ہے کہ اس کے باپ دادا ایسا کرتے تھے وہ ایک قسم کے جبر کے ما تحت ایسا کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو لوگ نا خلف سمجھیں گے۔قوم میں ناک کٹ جائے گی۔پس رسم و رواج کی اطاعت بشاشت سے نہیں ہوتی۔اسی طرح جو شخص محض وہم کی بنا پر کسی امر کو سر انجام دیتا ہے وہ بھی بشاشت سے اس کو بجا نہیں لاتا۔کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ کل کو کوئی اور وہم اسے اس کام کے خلاف کام کرنے پر مجبور کر دے۔چنانچہ مشرکین روزانہ اپنے طریق کو بدلتے ہیں۔کوئی کسی بت کو مانتا ہے۔کوئی کسی کو۔کوئی کسی طریق کو اختیار کرتا ہے کوئی کسی طریق کو۔تیسرے۔دائمی زندگی کے انکار کی وجہ سے بھی اعمال محض ایک محدود دائرہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور عمل میں وہ قربانی اور بشاشت نظر نہیں آتی جو ایک دائمی زندگی پر ایمان لانے والے کو نصیب ہو سکتی ہے۔ان تمام باتوں کے خلاف اسلام رسم و رواج کا سخت مخالف ہے۔کیونکہ بہت سی رسوم بھی بدی کا ایک راستہ بن جاتی ہیں۔بہت سی بدیاں انسان اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ رسوم میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔مثلاً اس کے پاس روپیہ کافی نہیں ہوتا اور ملک کی رسم چاہتی ہے کہ خاص قسم کا لباس پہنے۔وہ اس رسم کا مقابلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے ناجائز ذرائع سے روپیہ کما تا ہے۔اس لئے اسلام رسموں سے منع کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ ایک بوجھ ہیں جن کو قومی خوف کی وجہ سے انسان اٹھاتا ہے ورنہ وہ بوجھ طاقت سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔کیونکہ ان میں غریب اور امیر، مقروض اور آزاد کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔اور لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی خیالی عزت کی حفاظت اور اپنے ہم عصر لوگوں میں ذلیل ہونے سے بچنے کی غرض سے گناہ اور بدی میں مبتلا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی ایک غرض یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ تا آپ کے