تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 274
لائے گا۔چوتھی چیز جس سے احکام کی تعمیل میں بشاشت قلبی پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو خود سمجھ آجائے کہ شریعت کے احکام اس کے حق میں مفید ہیں اور یہ کہ ان پر چل کر اسے اس کا مقصود مل سکتا ہے۔پس جب اس کو یہ سمجھ آجائے گی تو وہ شریعت پر خوشی سے عمل کرے گا اور اسے چٹی نہیں سمجھے گا۔یہ بات بھی صرف اسلام کی پیش کردہ تعلیم میں ہی ہے کہ نہ صرف اس پر چل کر خدا تعالیٰ بندہ سے راضی ہو جاتا ہے بلکہ ان احکام پر عمل کرنے کی وجہ سے اس عمل کرنے والے کی ذات کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور اس کی قوم کو بھی۔مثلاً نماز ہے۔نماز پڑھنے سے صرف یہی نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی لقاء ہوتی ہے۔بلکہ انسان کو ذاتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بہت سی خرابیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ(العنکبوت:۴۶) کہ حقیقی نماز انسان کو بدیوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔پس جو شخص نماز پڑھتا ہے اس کو ذاتی طور پر یہ فائدہ پہنچے گاکہ وہ کئی قسم کی بدیوں سے بچ جائے گا۔جس سے دوسرے لوگ محفوظ نہیں رہ سکتے۔گویا نماز پڑھنے والا ایک محفوظ قلعہ میں داخل ہو جائے گا جس کے اندر شیطان داخل نہیں ہو سکتا۔پھر نما ز سے کئی قومی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔یہ امر ہر وقت سامنے رہتا ہے کہ ہم نے اپنے شیرازہ کو قائم رکھنا ہے۔ہمارا ہر وقت ایک واجب الاطاعت امام ہونا چاہیے۔جس کے ہاتھ پر قوم جمع رہ کر اسلامی جھنڈے کو بلند رکھ سکے۔اسی طرح مسجدمیں جانے کی وجہ سے ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت ہوجاتی ہے۔گویا وہ مقصد جس کو ہر عقلمند قوم چاہتی ہے مسلمانوں کو زائد طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔اسی طرح روزہ اور زکوٰۃ ہیں۔ان سے صرف روزہ رکھنے والے اور زکوٰۃ دینے والے کا ہی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ کسی قوم کی تنظیم اور اس کی مضبوطی کے لئے جن باتوں کی ضرور ت ہو سکتی ہے مسلمانوں کو مفت میں حاصل ہوجاتی ہیں۔اسی طرح اسلامی عبادات میں سے ایک حج بھی ہے اس میں ذاتی فوائد کے علاوہ سیاسی فائدے بھی ہیں کہ ذی اثر لوگوں میں سے ایک جماعت ہر سال جمع ہو کر تمام عالم کے مسلمانوں کی حالت سے واقف ہوتی رہتی ہے اور اخوت و محبت ترقی کرتی ہے۔اور ایک دوسرے کی مشکلات سے آگاہ ہونے اور آپس کے تعاون کے حاصل کرنے اور ایک دوسرے کی خوبیاں اخذ کرنے کا موقع ملتا ہے اور اگر تمام عالم اسلامی کے مسلمان مل کر باہمی فائدے کے