تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 273
طور پر چاہے گا کہ وہ خدا کے ارشاد کے مطابق اعمال کوبجالائے۔تاکہ اسے اس کے اعمال کا غیر محدود بدلہ ملتا جائے اور جب انسان کو اچھی طرح یہ سمجھ آجاتا ہے اور اس پر یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب جزا دیتا ہے تو متواتر دیتا چلا جاتا ہے تو وہ اپنے اندر ایک خوشی اور لذت کی لہر محسوس کرتا اور نیک اعمال کے بجا لانے میں بہت زیادہ جدوجہد کرتا ہے تاکہ وہ خدا تعالیٰ کی غیر محدود جزا سے حصہ لے سکے۔قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ مومنوں کے اعمال کا بدلہ ان کے اعمال سے بہت بڑھ کر ہو گا۔چنانچہ فرمایا :۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ( التّین:۷ ) کہ وہ لوگ جو مومن ہیں اور نیک عمل کرنے والے ہیں ان کو نہ کٹنے والا انعام ملے گا۔پھر فرمایا:۔مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (الانعام: ۱۶۱) یعنی جو شخص نیکی کرے گا اسے اس نیکی سے دس گنے زیادہ بدلہ ملے گا اورجو برائی کرے گا اس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے برائی کی ہو گی۔نیکی کا کم بدلہ دے کر اس کا حق نہیں مارا جائے گا اور نہ بدی کا بدلہ زیادہ دے کر اس پر ظلم کیا جائے گا۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک نیک عمل کے بدلہ میں دس گنا اجر ملے گا۔بہر حال عمل سے بڑھ کر جزا ہو گی۔پھر فرمایا :۔مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ (البقرۃ:۲۶۲) یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں یعنی قومی اور ملی مفاد کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ زمین میں ڈالا جائے اور وہ سات بالیاں اگائے اور ہر ایک بالی میں سَو دانہ ہو اور اللہ تعالیٰ جس کے مال کو جتنا چاہے بڑھا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ وسعت والا اور حالات کو جاننے والا ہے۔ان آیات میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اموال خرچ کرنے والے کو سات سو گنے بلکہ اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا اور وہ انسان کی قربانی کو دیکھ کر اسے نوازے گا اور ان حالات کو جن حالات میں اس نے قربانی کی ہے مدّ ِنظر رکھے گا۔بہرحال جس شخص کو یہ علم ہو کہ اس کے عمل کا سات سو گنا اجر مل سکتا ہے وہ کیوں بشاشت قلبی سے اعمال کو بجا نہ