تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 272
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے لِلرَّحْـمَۃِ خَلَقَھُمْ وَلَمْ یَـخْلُقْھُمْ لِلْعَذَابِ کہ اللہ تعالیٰ نے رحم کے لئے ہی بندوں کو پیدا کیا ہے عذاب کے لئے نہیں پیدا کیا۔غرض اسلام کی پیش کردہ تعلیم میں رحمت کا پہلو غالب ہے اور جس تعلیم میں یہ بات پائی جائے کبھی بھی اس پر عمل کرنے میں انقباض پیدا نہیں ہو گا۔بلکہ اس کا ماننے والا ہمیشہ ہی پُر امید رہے گا اور یہ سمجھ کر عمل کرے گا کہ اگر اس کے اعمال میں کوئی کمزوری رہ گئی تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کو تھام لے گی۔لیکن دوسرے مذاہب کی تعلیم میں ایسی بات نہیں پائی جاتی۔اس لئے ان کے احکام پر عمل کرتے ہوئے بشاشتِ قلب پیدا نہیں ہو سکتی۔تیسری بات جس سے احکام کی تعمیل میں بشاشت پیدا ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ تعمیل احکام میں ایسے فوائد موجود ہوں جو جزائے اعمال کو اعمال کی نسبت سے زیادہ بتاتے ہوں اور یہ بات بھی صرف اسلامی تعلیم میں پائی جاتی ہے۔دوسرے مذاہب اس سے خالی ہیں۔اسلام جس خدا کو پیش کرتا ہے اس کی صفات میں سے ایک صفت رحیمیت کی ہے۔او ررحیمیت کے معنے یہ ہیں کہ تھوڑا ساکام بندہ کرتا ہے اور غیر منتہی نتیجہ خدا پیدا کرتا ہے۔مثلاً انسان روٹی کھاتا ہے۔روٹی کھانے کا یہی نتیجہ نہیں ہوتا کہ پیٹ بھر جاتا ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں خون پیدا ہوتا ہے جو مہینوں اور سالوں انسانی جسم میں کام کرتا ہے۔اسی خون سے اس کے دماغ کو طاقت ملتی ہے، اس کی نظر کو طاقت ملتی ہے، اس کے ذہن کو طاقت ملتی ہے، اس کے کانوں کو طاقت ملتی ہے جو مہینوں اور سالوں اس کے کام آتی ہے۔اور پھر و ہ کام مہینوں اور سالوں تک مزید نتائج پیدا کرتے ہیں۔پھر اسی میں سے نطفہ پیدا ہوتاہے جس سے اس کی نسل پیدا ہوتی ہے پھر اسی نسل سے اگلی نسل اور اگلی نسل سے اور اگلی نسل پیدا ہوتی ہے۔گویا ایک فعل تواتر سے نتائج پیدا کرتا ہے۔یہ رحیمیت ہے۔اگر دنیا میں صرف یہی سلسلہ ہوتا کہ جب کوئی شخص کام کرتا تو اسی وقت اس کا ایک نتیجہ پیدا ہو جاتا تو ہم اس کو بدلہ تو کہہ سکتے تھے جیسے مزدور مزدوری کرتا ہے تو اپنی اجرت لے لیتا ہے مگر ہم اسے رحیمیت نہیں کہہ سکتے تھے۔رحیمیت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے پنشن ہوتی ہے۔لوگ ملازمت کرتے ہیںتو انہیں اس کا بھی ایک بدلہ مل رہا ہوتا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی ان کے کھاتےمیں یہ بھی لکھا جا تا ہے کہ آئندہ اس کام کا متواتر نتیجہ پیدا ہو گا۔یہ چیز ہے جو رحیمیت کے مشابہ ہے یعنی کام کا بدلہ نقد ہی نہیں ملا بلکہ آئندہ کے لئے اور نیک نتائج کی بنیاد بھی ساتھ ہی رکھ دی گئی۔غرض رحیمیت میں تھوڑا سا کام بندہ کرتا ہے اورغیر منتہی نتیجہ خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔اور اگر انسان کو یہ نظر آجائے کہ مجھے میرے اعمال کی جو جزا ملنے والی ہے وہ میرے اعمال کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہو گی تو انسان طبعی