تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 263

چھٹی مد غارمین کی بیان کی گئی ہے۔اس کی ذیل میں وہ لوگ آجاتے ہیں جن کو بعض اوقات ایسی رقوم ادا کرنی پڑجاتی ہیں جن کے براہ راست وہ ذمہ وار نہیں ہوتے۔مثلاً کسی کی ضمانت دی اور جس کی ضمانت دی تھی وہ فوت ہو گیا یا کسی اور طرح سے غائب ہو گیا۔تو ضامن کے پاس مال نہ ہوسکنے کی صورت میں اس کی امداد کی جا سکتی ہے۔اسی طرح اس کی ذیل میں وہ تاجر بھی آسکتے ہیں جن کی تجارت ملک کے لئے مفید ہو۔مگر کسی اتفاقی حادثہ کی وجہ سے ان کا نقصان ہو جائے اور تجارت بند ہو جانے کا خطرہ ہو۔ایسی صورت میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو روپیہ دے تاکہ وہ اپنی تجارت کو بحال کر کے ملک کو فائدہ پہنچا سکیں۔ساتویں مد فی سبیل اللہ کی ہے۔اس مد میں وہ تمام کام شامل ہیں جو قومی یا ملکی تنظیم، استحکام، حفاظت یا ان کی ترقی کے لئے کئے جائیں۔اس میں فوجیں بھی شامل ہیں اور تعلیم بھی شامل ہے۔سڑکیں، ہسپتال، اسی قسم کے وہ تمام کام جو صرف کسی فرد کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ تمام قوم کے فائدہ کے لئے ہوتے ہیں شامل ہیں۔فقراء، مساکین، عاملین علیہا، مؤلفۃ القلوب اور غارمین کے ذکر میں درحقیقت فردی امداد کا ذکر ہے۔اور اس کے بعد ابن السبیل کا لفظ رکھ کر یہ بتایا گیا ہے کہ بعض اوقات ایسے کام پیش آجاتے ہیں جو کسی فرد کی طرف منسوب نہیں کئے جا سکتے بلکہ قوم کی طرف یا ملک کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور اس قسم کے کاموں میں اجتماعی خرچ ہوتا ہے جو ملک اور ملت کے استحکام اور ترقی کے لئے کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔چونکہ ایسے خرچ کئی قسم کے ہو سکتے ہیں اس لئے اس کی تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ایک مجمل اورجامع لفظ رکھ دیا تاکہ ضرورت پیش آنے پر ذمہ وار لوگ اس کو خرچ کر سکیں۔آٹھویں مد ابن السبیل کی ہے۔ابن السبیل کے معنے مسافر کے ہیں۔یعنی مسافروں کی امداد کرنا حکومت کا فرض ہے۔یعنی سڑکوں کا بنانااور ان کی مرمت وغیرہ کا خیال رکھنا۔مسافر خانے اور ڈاک بنگلے بنانا اپنے ملک میں سفر کرنے کے لئے معلومات اور سہولتیں بہم پہنچانا۔اس کے متعلق لٹریچر شائع کرنا تاکہ غیر ملکوں کے لوگ آئیں اور اسلامی حکومت کو دیکھیں اور مسلمان غیر مسلمانوں سے واقف ہوں اور غیر مسلمان مسلمانوں سے واقف ہوں۔اور سیّاحوں کے آنے کی وجہ سے ملک کی دولت بڑھے اور غیر ملکوں کے ساتھ تعلقات قائم ہونے کی وجہ سے اسلامی ملک کی ساکھ دوسرے ممالک میں قائم ہو اور بین الاقوامی تعلقات بہتر ہوں۔گویا یہ سب اغراض ابن السبیل کی مد میں آجاتی ہیں۔مذکورہ بالا تفصیل کو پیش نظر رکھ کر دیکھیں کہ اسلام نے صرف زکوٰۃ کا حکم نہیں دیا بلکہ بتایا کہ یہ حکم اپنے اندر