تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 262
ایسے لوگوں کی بھی جستجو کرے جو نادار ہیں لیکن اپنی ناداری لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔اور تلاش کر کے ان کی مدد کرے۔تیسری مد خرچ کی وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے یعنی جو لوگ زکوٰۃ کا انتظام کرنے پرمقرر ہوں ان کی تنخواہیں وغیرہ بھی اس سے ادا کی جائیں۔درحقیقت وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا کے الفاظ میں وسعت ہے۔ملکی فوج بھی عاملین کی ذیل میں آجاتی ہے۔کیونکہ اگر فوج نہ ہوگی تو ملک کا امن برقرار نہ رہ سکے گا۔نہ تجارت ہو سکے گی نہ زمینداری۔اور اگر تجارت و زمینداری نہ ہو گی تو زکوٰۃ کہاں سے آئے گی۔پس زکوٰۃ کے جمع ہونے میں فوج کا بھی بڑا دخل ہے۔بہرحال زکوٰۃ کے نظم و نسق کے کارکن اوّل درجہ پر عاملین کی ذیل میں آتے ہیں۔چوتھی مد مؤلفۃ القلوب کی بیان کی گئی ہے یعنی وہ لوگ جن کے دل ملے ہوئے ہیں۔ظاہر ہے کہ ملے ہوئے دلوں کا ذکر کرنے کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ ان کا ظاہر ملا ہوا نہ ہو۔پس مؤلفۃ القلوب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل اسلام یا اسلامی حکومت کی طرف مائل ہو چکے ہوں لیکن کفار کے ملک میں ہونے کی وجہ سے اپنے اسلام یا اپنی ہمدردی کو پوری طرح ظاہر نہ کر سکتے ہوں ان کو اسلامی ملک میں لانے یا ان کی دلی حالت کو قائم رکھنے میں مدد دینے کے لئے بھی زکوٰۃ کا روپیہ خرچ کیا جا سکتا ہے۔یا ایسے لوگ جن کے دل اسلام کی صداقت کے قائل ہو چکے ہیں۔لیکن اگر وہ اسلام کو ظاہر کر دیں تو غیر ممالک میں ان کی ملازمتیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں اور گذارے کی صورتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ان کی مدد کی جا سکتی ہے مؤلفۃ القلوب سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ کسی کو روپیہ دے کر اسلام کی طرف مائل کیا جائے۔کیونکہ اسلام روپیہ دے کر لوگوں کو مسلمان بنانے کی ہرگز اجاز ت نہیں دیتا۔اس کی ذاتی خوبیاں ہی اس کے پھیلانے کے لئے کافی ہیں۔پانچویں مد فی الرقاب بیان کی گئی ہے۔یعنی غلاموں کے آزاد کرانے میں بھی زکوٰۃ کا روپیہ خرچ کیا جا سکتا ہے۔ابتدائے اسلام میں عرب میں غلامی کا رواج تھا اس لئے ان کے آزاد کروانے کا حکم تھا۔کیونکہ اسلام بیع و شراء والی غلامی کو مطلقاً حرام کرتا ہے لیکن اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ اگر کوئی جابر قوم ظالمانہ طور پر کسی کمزور قوم کو روند ڈالے اور ان کے ملک پر قبضہ کر لے اور ان کو غلام بنا لے تو کمزور قوم کی مدد کی جائے اور ان کو ظالموں کے ہاتھوں سے آزاد کرایا جائے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کا قرض ادا نہ کرسکنے کی صورت میں مصیبت میں مبتلا ہو تو اس کی زکوٰۃ کے مال سے گلو خلاصی کرائی جائے۔