تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 264
گہرا فلسفہ رکھتا ہے اور یہ کہ اگر قوم صحیح طور پر اس حکم پر عمل پیرا رہے گی تو اس کے لئے بے شمار ترقی کے ذرائع کھلتے چلے جائیں گے۔(۲)اسی طرح اسلام نے روزہ کا حکم دیا ہے۔وہ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ( البقرۃ:۱۸۴) یعنی اے مسلمانو تم پر روزے رکھنے فرض کئے گئے ہیں اور یہ کہ تم ایک مہینہ متواتراکٹھے روزے رکھو۔اس کے بعد فرمایا کہ یہ حکم بے فائدہ نہیں۔صرف اس لئے نہیں ہے کہ تم سارا دن بھوکے پیاسے رہو اور تکلیف اٹھاؤ بلکہ یہ حکم اپنے اندر بہت سی حکمتوں کو لئے ہوئے ہے جو قوم کے لئے بہت سے مفید پہلو اپنے اندر رکھتی ہیں۔چنانچہ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرۃ:۱۸۴) کہ ان روزوں کے نتیجہ میں تمہیں تقویٰ حاصل ہو جائے گا۔تَتَّقُوْنَ کا لفظ قرآن کریم میں تین معنوں میں استعمال ہوا ہے۔(۱)دکھوں سے بچنے کے معنے میں (۲)گناہ سے بچنے کے معنے میں اور(۳)روحانیت کے اعلیٰ مدارج کے حاصل کرنے کے متعلق۔پس اس لفظ کے ذریعہ روزہ کی تین حکمتیں بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیں۔پہلی حکمت یہ ہے کہ انسان روزہ کے ذریعہ سے دکھوں سے بچ جاتا ہے۔بظاہر یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ روزہ سے تو انسان اور بھی تکلیف اٹھاتا ہے۔کیونکہ سارا دن اس کی وجہ سے بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے۔مگر جب غور کیاجائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ روزہ درحقیقت انسان کو دو سبق سکھاتا ہے۔اوّل سبق یہ کہ مال دار لوگ جو سارا سال عمدہ غذائیں کھاتے رہتے ہیں اور ان کو فاقہ کی تکلیف کا علم نہیں ہوتا۔ان کو بھی معلوم ہو کہ فاقہ کیا ہوتا ہے اور وہ لوگ جو فاقوں میں مبتلا رہتے ہیں ان کو کیا تکلیف ہوتی ہے۔گویا روزہ کے ذریعہ سے اپنے غریب بھائیوں کی حالت کا صحیح اندازہ ہو جاتا ہے اور ان کی ہمدردی کا جوش پیدا ہوتا ہے۔اور اس کا نتیجہ قوم کی ترقی اور حفاظت ہوتا ہے۔اور قوم کی حفاظت درحقیقت فرد کی حفاظت ہی ہوتی ہے۔دوسرا سبق یہ ہے کہ اسلام چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والے سست اور غافل نہ ہو جائیں۔بلکہ ان کے اندر مشقت برداشت کرنے کی عادت قائم رہے۔چنانچہ روزوں کے ذریعہ ہر سال مسلمانوں کی تربیت ہوتی رہتی ہے۔گویا اسلام کے اس حکم پر چلنے والے کبھی عیاشی اور غفلت میں مبتلا ہو کر ہلاک نہیں ہو سکتے۔دوسرا امر کہ روزوں سے انسان گناہ سے بچتا ہے۔اس کی حقیقت یہ ہے کہ گناہ درحقیقت مادی لذات کی طرف جھکنے کا نام ہے۔اور یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان کسی کام کا عادی ہو جائے تو وہ اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔مگر جب اس