تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 261

۳۔زکوٰۃ کے کام پر مامور عملہ ۴۔مولفۃ القلوب۔یعنی جن لوگوں کی تالیف قلب مدّ ِنظر ہو۔۵۔فی الرقاب۔یعنی جو غلام ہوں یا مصائب میں پھنسے ہوئے ہوں ان کی گلو خلاصی کرانے میں۔۶۔غارمین۔یعنی وہ لوگ جو اپنے کسی قصور کے بغیر مالی ابتلاء میں پھنس گئے ہوں۔۷۔فی سبیل اللہ۔یعنی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے یا اس کی رضا کے کاموں میں۔۸۔ابن السبیل۔یعنی مسافر۔زکوٰۃ کا پہلا مصرف فقراء ہیں۔یعنی وہ لوگ جو کلی طور پر یاجزوی طورپر اپنا گذارہ چلانے کے لئے دوسروں کی مدد کے محتاج ہیں مثلاً اپاہج ہیں، معذور ہیں، یتامیٰ و بیوگان ہیں، ایسے تمام لوگوں کی ذمہ داری قوم پر ہوتی ہے۔اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو قوم ذلیل ہو جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم دے دیا جس سے دائمی طور پر قابلِ امداد لوگوں کی امداد ہوتی رہے اور قوم اور ملک میں ضعف پیدا نہ ہو۔قرآنی آیت میں فقراء کا لفظ اللہ تعالیٰ نے پہلے رکھا ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر حالت میں اس کو تمام دوسرے اخراجات پر ترجیح دی جائے گی۔بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ عام حالات میں اس کو ترجیح دی جائے گی۔ورنہ ایسے حالات بھی آسکتے ہیں جبکہ حکومت کو خود اپنی ذات میں خطرہ ہو۔ایسے وقت میں افراد خواہ کتنے ہی غریب ہوں۔انہیں ملت کے لئے قربانی کی دعوت دی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لئے غریبوں اور امیروں سب کو بلاتے تھے اور انہیں دیا کچھ نہیں جاتا تھا۔پس معلوم ہوا کہ اگر قوم و ملک کی آزادی خطرے میں ہو تو اس وقت غرباء کو بھی قربانی کے لئے بلایا جاسکتا ہے۔پس یہ ترتیب جو قرآنی آیت میں فقراء کو نمبر اوّل پر رکھ کر قائم کی گئی ہے فرض نہیں مرجّح ہے۔آیت میں فقراء کے بعد مساکین کا لفظ ہے لغت میں مسکین کے معنے بھی درحقیقت فقیر ہی کے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ مسکین ساکن فقیر کو کہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ساکن فقیر کے یہ معنے کئے ہیں کہ وہ جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے اور سوال کے ذریعہ کسی کو اپنی غربت کا پتہ نہ لگنے دے۔یعنی صرف اس کے حالات سے علم ہو کہ وہ قابلِ امداد ہے۔باوجود اس کے کہ فقیر اور مسکین کے الفاظ ایک ہی قسم کی غربت پر دلالت کرتے ہیں۔انہیں الگ الگ بیان کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ صرف نادار لوگوں کا ہی فکرنہ کرے بلکہ