تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 260

اسی طرح زمیندار جو زمین میں سے اپنی روزی پیدا کرتا ہے گو اپنی محنت کا پھل کھاتا ہے مگر وہ اس زمین سے بھی تو فائدہ اٹھاتا ہے جو تمام بنی نوع انسان کے لئے بنائی گئی تھی۔پس اس کی آمد میں سے بھی ایک حصہ حکومت کو قرآن کریم دلواتا ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے اسے خرچ کیا جائے۔اس قانون کے مطابق مزارع عشر دیتا ہے اور پھر جو مالک ہے جب اس کے پاس روپیہ جمع ہوتا ہے وہ بھی اس میں سے زکوٰۃ دیتا ہے۔اسی طرح تجارت کرنے والا بظاہر اپنے مال سے تجارت کرتا ہے۔لیکن اس کی تجارت کا مدار ملکی امن پر ہے۔اور اس امن کے قیام میں ملک کے ہر شخص کا حصہ ہے۔پس اس حصہ کو دلانے کے لئے کمائے ہوئے مال پر اسلام نے زکوٰۃ مقرر کر دی تاکہ کمائے ہوئے مال دوسرے لوگوں کے حصہ سے پاک ہوتے رہیں۔دوسری غرض تُزَكِّيْهِمْ کے ماتحت (جس کے معنے بڑھانے اور ترقی دینے کے ہیں)یہ قرار دی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ افراد اور ملک و قوم کی ترقی کا راستہ کھولا جائے۔اس آیت میں تُطَهِّرُهُمْ کے بعد تُزَكِّيْهِمْ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔پس اس کے وہ معنے لینے پڑیں گے جو ہوں تو لغت کے مطابق لیکن تُطَھِّرُ سے مختلف ہوں تاکہ قرآن کریم کی فصاحت قائم رہے۔سو جب ہم لغت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ تزکیہ کے معنے علاوہ تطہیر کے ترقی دینے کے بھی ہوتے ہیں۔پس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اموال زکوٰۃ لے کر تم دلوں کی صفائی کرو اور ان کے اموال میں جو دوسروں کا حق ہے اس سے ان کے اموال کو پاک کرو۔اور قوم اور ملک کی ترقی کے سامان بہم پہنچاؤ۔گویا زکوٰۃ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی ایک ذریعہ ہے۔پھر قرآن کریم نے زکوٰۃ کے مصارف بھی خود بیان کر دیئے تاکہ یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے کہ کس طرح زکوٰۃ کے اموال کے ذریعہ اہم قومی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے۔اگر یہ اموال ان ضروریات کے لئے خرچ نہ کئے جاتے تو قوم بے دست و پا ہو کر رہ جاتی۔فرمایا۔اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ( التوبۃ:۶۰) یعنی زکوٰۃ کے خرچ کرنے کی مندرجہ ذیل آٹھ مدّات ہیں:۔۱۔فقراء ۲۔مساکین