تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 226
اس مزعومہ سوال کے جواب کے لئے کسی اور سورۃ کے نازل کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار سال سے ایک خدا کی عبادت کرتے چلے آرہے تھے۔آپ کا عمل بھی یہی تھا کہ ایک خدا کے سوا دوسرا کوئی نہیں اور سارے مکہ والوں سے لڑائی ہی اس بات پر تھی کہ خدا ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ان تمام باتوں کی موجودگی میں یہ کہنا کہ لوگوں نے آپ سے آکر یہ سوال کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے رہبری طلب کی۔تب خدا تعالیٰ نے یہ سورۃ اتار کر بتایا کہ ان کے معبودوں کی عبادت نہیں کرنی کتنی فضول اور خلاف عقل بات ہے۔کیاکوئی شخص اس کہانی کو مان سکتا ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان سے کسی نے کہا کہ آؤ کچھ دن تم ہمارے عیسیٰ کو خدا مان لیاکرو کچھ دن ہم تمہارے خدا کو خدامان لیا کریں گے تو اس مسلمان نے کہا کہ اچھا میں اپنے علماء سے پوچھ کر اس کا جواب دوںگا؟ اگر ایک جاہل سے جاہل مسلمان بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا تو عقل مندوں کے سردار اور توحید کے علمبردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ خیال کرلینا کہ آپ اس سوال کو سن کر (میں اس سوال کو عجیب نہیں سمجھتا۔ایک شکست خوردہ قوم اپنی گھبراہٹ میں کئی بے وقوفی کی باتیں کر لیتی ہے میں صرف اس بات کو خلاف عقل قرار دے رہا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو سن کر کسی قسم کے تردد کا اظہار کیا اور خدا تعالیٰ کے جواب کا انتظار کیا)اس کے جواب کے لئے خدا تعالیٰ کی راہنمائی کے منتظر رہے یا یہ کہ آپ کے دعویٰ کے چار سال بعد بھی آپ کو ایسی راہنمائی کی ضرورت تھی۔کم سے کم میرے نزدیک تو یہ ایک ایسی بات ہے جس کو کوئی معقول انسان ایک منٹ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔یہ سوال نہ صرف ایسا تھا جس کا جواب پہلے سے قرآن کریم میں آچکا تھا بلکہ اس میں اور بھی بہت سے نقائص تھے جن کا جواب دینے کے لئے کسی وحی کی ہدایت کی ضرور ت نہیں تھی۔مثلاًسوال یہ تھا کہ ہم آپ کے معبود کی عبادت کرنے لگ جاتے ہیں آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرنے لگ جائیں۔کیا اس سوال میں کوئی اہمیت تھی جس کے جواب کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کی ضرورت ہوتی۔اس سوال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تویہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ آپ جن معبودوں کو نہیں مانتے ان کی عبادت کریں اور اپنی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ جس خدا کو ہم مانتے ہیں اور جس کی ہم عبادت بھی کرتے ہیں اس کی ہم عبادت کرنے لگ جائیں گے۔یہ پیشکش تو ایسی ہی ہے جیسے ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ کوئی عورت دوسری عورت کے گھر گئی جس کے پاس چکّی تھی اور اس سے درخواست کی کہ کچھ دیر کے لئے وہ اسے چکّی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے تاکہ وہ اپنے دانے پیس لے۔جب وہ دانے پیسنے لگی تو گھر والی عورت کو بھی خیال