تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 225

اوراُدھر یہ بھی دیکھتا ہے کہ میری بات بے اثر ہو رہی ہے اور لوگ میرے عقیدہ سے پھرے جا رہے ہیں تو اس قسم کی خلاف عقل باتیں کرنے پر وہ مجبور ہو جاتا ہے لیکن سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ سورۃ ان مطالبات کے نتیجہ میں اتری اور کیا اس مطالبہ کے نتیجہ میں کسی سورۃ کے اترنے کی ضرورت تھی اور کیا اس مطالبہ کے نتیجہ میں ایک مستقل سورۃ کا اترنا کوئی معقول بات تھی؟ سو پہلی بات کا جواب تو یہ ہے کہ صحاح ستّہ میں اس حدیث کا کہیں ذکر نہیں۔اتنا اہم واقعہ کہ کفار نے ایک سوال کیا اور اس کے جواب میں ایک سورۃ اتری اس کا ذکر صحاح سِتہ میں نہ ہونا قابل تعجب معلوم ہوتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا اس مطالبہ کے جواب میں کسی سورۃ کے اترنے کی عقلاً کوئی ضرورت تھی اس کا جواب بھی بالکل واضح ہے۔توحید کے متعلق پہلے دن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر الہامات نازل ہوئے ہیں۔مثلاً جو پہلی سورۃ اتری تھی اس میں گو توحید کا لفظ نہیں ہے لیکن ایک خدا کی عبادت کا ذکر ہے۔چنانچہ فرماتا ہے اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ۔الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (العلق:۲تا۶) یعنی تُو اس خدا کا نام لے کر دنیا میں تبلیغ کر جس نے سب دنیا کو پیدا کیا ہے اور جس نے انسان کی پیدائش میں اپنی محبت مخفی کر دی ہے۔ہاں اسی کے نام کو دنیامیں پھیلا جو سب سے زیادہ معزز ہے جس نے انسان کو علوم تحریر سے سکھائے ہیں۔یعنی ایک لمبے عرصہ تک قائم رہنے والی تعلیمات سے نوازا ہے اور ایسے علوم انسان کو سکھائے ہیں جن کو وہ پہلے نہ جانتا تھا۔اس مضمون میں ایک تو ذات ِ باری کے کامل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔دوسرے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی الہام کے ذریعہ سے بنی نوع انسان کو ہدایت دیتا رہا ہے۔تیسرےیہ بتایا ہے کہ الٰہی کلام میں ایسے علوم ہوتے ہیں کہ مخلوق کا کوئی فرد ان علوم تک خود بخود نہیں پہنچ سکتا۔اب یہ سب باتیں شرک کی بیخ کنی کر دیتی ہیں۔کیونکہ جب خدا تعالیٰ نبیوں کے ذریعہ سے تعلیم دیتا رہا ہے اور کامل تعلیم اس کی طرف سے آتی رہی ہے تو بتوں کے لئے اس نظامِ روحانی میں گنجائش ہی کہاں رہ جاتی ہے۔پھر اس کے بعد قریب میں اترنے والی سورتیں سورۂ مزمل اور سورۂ مدثر ہیں۔سورۂ مزمل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا (المزّمل:۱۰) خدا مشرق کا بھی خدا ہے اور مغرب کا بھی خدا ہے اس کے سواکوئی معبود نہیں۔بس اسی پر اپنا سارا توکل کر۔پھر سورہ ٔ مدثر میں فرماتا ہے وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ(المدّثر:۴) صرف اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کر۔وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ(المدّثر:۶) اورشرک کو بالکل دور کردے۔پس ایسے واضح بیان کے بعد کہ شرک کو ترک کر و صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کرو اور مشرق و مغرب کا صرف ایک خدا ہے کوئی دوسرا خدا نہیں اس کے اوپر توکل کرو۔کفار کے