تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 227
آگیا کہ میں بھی تھوڑی دیر چکّی پیسوں۔اس پر دانے پسوانے کے لئے جو عورت آئی تھی اس سے گھر والی نے کہا کہ اٹھو میں تمہاری جگہ دانے پیستی ہوں۔جب چکی والی دانے پیسنے میں مشغول ہوئی تو جو دانے پیسنے کے لئے لائی تھی اس نے گھر والی کے کھانے پر سے کپڑا اٹھایا اور یہ کہہ کر اسے کھانا شروع کر دیا کہ بہن مجھے شرم محسوس ہوتی ہے کہ تم میراکام کرو اور میں تمہارا کوئی کام نہ کروں۔اس لئے تم میرے دانے پیسو میں تمہارا کھانا کھاتی ہوں۔یہ لطیفہ لوگوں نے بعض فاتر العقل لوگوں کی سادگی یا بے وقوفی ظاہر کرنے کے لئے بنایا ہوا ہے۔مگر کیا کوئی شخص اس لطیفہ کو سن کر اس حیرت میں پڑ سکتا ہے کہ جو بات اس بے وقوف عورت نے کہی تھی اس کو کس طرح حل کیا جائے۔اس کا کیا جواب دیا جائے؟ کفار کا سوال بھی اس عورت کے اس فقرہ سے کم بے ہودہ نہیں تھا۔شاید ہمارے مفسرین نے یہ خیال کر لیا ہے کہ مکہ کے مشرک صرف اپنے بتوں کو مانتے تھے خدا کو نہیں مانتے تھے اس لئے ان کا یہ مطالبہ کہ تم ہمارے معبودوں کو ماننے لگ جاؤ ہم تمہارے معبود کو ماننے لگ جائیں گے۔خواہ خلاف ِ ایمان اور خلاف ِ دین تو ہو لیکن خلاف عقل نہیں تھا۔حالانکہ یہ مطالبہ خلاف دین اور خلاف ِ ایمان ہی نہیں خلاف ِ عقل بھی تھا کفار مکہ خدا تعالیٰ کو اسی طرح مانتے تھے جس طرح مسلمان مانتے تھے اور اس کو سب بتوں کا سردار اور آقا سمجھتے تھے۔غلطی صرف یہ تھی کہ وہ اس کے ہوتے ہوئے کچھ اور چھوٹے معبودوں کی بھی ضرورت سمجھتے تھے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى ( الزّمر:۴) یعنی وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود بناتے ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں۔اس آیت سے صاف پتہ لگتا ہے کہ مکہ کے لوگ اللہ کو مانتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ خدا ہی تمام دنیا کا بادشاہ ہے اور صرف یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خدا کے سوا جو اور معبود ہیں وہ خدا کے پیارے ہیں اور ہم ان کی اس لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں خدا کا مقرب بنا دیں اور ہمارے سفارشی بن جائیں۔پس جبکہ مشرکین خدا تعالیٰ کو مانتے تھے۔خدا تعالیٰ کے قرب کو ضروری سمجھتے تھے اور معبودانِ باطلہ کی محض اس لئے عبادت کرتے تھے کہ وہ ان کی خدا تعالیٰ کے پاس سفارش کر دیں تو ان حالات میں یہ کیوں کر سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ خدا کی عبادت نہیں کرتے تھے اور اگر وہ خدا کی عبادت کرتے تھے تو پھر ان کا یہ کہنا کہ آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کر لیں ہم آپ کے معبود کی عبادت کر لیں گے، کتنا احمقانہ سوال بن جاتا ہے۔خدا تعالیٰ پر ایمان تو مشرکوں اور مسلمانوں میں مشترک تھا ما بہ النزاع صرف معبودانِ باطلہ کی ذات تھی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کرنا کہ تم اس چیز کو مان لو جس پر جھگڑا ہے تو ہم اس چیز کومان لیں گے جس کو ہم بھی مانتے ہیں ایک ایسی بات تھی