تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 224

ہو گا کہ اگر وہ چیز جس پر ہم ہیں آپ کی چیز سے زیادہ اچھی ہوئی تو آپ اس میں شریک ہو جائیں گے اور اس سے اپنا حصہ لے لیں گے اور اگر وہ چیز جس پر آپ ہیں ہماری چیز سے زیادہ اچھی ہوئی تو ہم اس میں شریک ہو جائیں گے اور اس سے اپنا حصہ لے لیں گے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکافرون نازل فرمائی۔(الدر المنثور السورۃ الکافرون) عبد الرزاق اور ابن منذر دونوں نے اپنی کتب میں وہب سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اِنْ سَـرَّکَ اَنْ نَّتَّبِعَکَ عَامًا وَّ تَرْجِعَ اِلٰی دِیْنِنَا عَامًا فَاَنْزَلَ اللہُ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ اِلٰی اٰخِرِ السُّوْرَۃِ۔یعنی اگر آپ کو پسند ہو تو ہم ایک سال آپ کے پیچھے چلنے کے لئے تیار ہیں اور ایک سال آپ ہمارے پیچھے چلیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ والی سورۃ نازل فرمائی۔(الدر المنثور السورۃ الکافرون) اسی طرح عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے اِنَّ قُرَیْشًا قَالَتْ لَوِ اسْتَلَمْتَ اٰلِھَتَنَا لَعَبَدْنَا اِلٰھَکَ فَاَنْزَلَ اللہُ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ السُّوْرَۃَ کُلَّھَا۔یعنی قریش نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر آپ ہمارے معبودوں کو مان لیں تو ہم آپ کے معبود کی عبادت کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کی ساری سورۃ نازل کی۔(الدر المنثور السورۃ الکافرون) ان روایتوں کی بنا پرمفسرین کی یہ رائے ہے کہ اس سورۃ میں يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ سے مراد خاص وہ کفار ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبادت کے متعلق مذکورہ بالا سوال کیا تھا۔جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کفار نے بعض دفعہ ایسی تجاویز پیش کی تھیں جن میں اپنے معبودوں سے نرمی کرنے کی خواہش کی گئی تھی اور اس کے بدلہ میں آپ کے اعزاز اور اکرام کرنے کے وعدے کئے گئے تھے۔تو یہ امر نہ صرف احادیث سے ہی ثابت ہے بلکہ کثرت سے تاریخی روایتیں بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں اور یہ واقعہ ایک تواتر کا رنگ رکھتا ہے لیکن جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ یہ سورۃ اسی غرض کے لئے اتاری گئی تھی یہ امر قابلِ غور بھی ہے اور مشکوک بھی ہے۔ہم ان مذکورہ بالا روایتوں میں سے آخر کی تین روایتوں کو لے لیتے ہیں جو مختصر ہیں اور ان کا مضمون صرف یہ ہے کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے۔یا سعید بن منیاء اور ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق سال کی شرط نہیں۔انہوں نے صرف یہ کہا کہ تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں گے۔بظاہر کفار کے منہ سے ایسی بات کا نکلنا عجیب نہیں معلوم ہوتا۔جب ایک انسان خلافِ عقل بات کرتا ہے