تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 220

اس کے وسیع مطالب کو تنگ دائرہ میں لے آتے ہیں اور اس کے سمندر کو ایک چھوٹا دریا بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو قرآن کریم کی خدمت نہیں بلکہ اس سے دشمنی ہے۔پس ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا کوئی ایسی دلیل موجود ہے جو ہمیں مجبور کرتی ہو کہ اس جگہ پر ہم ان وسیع معنوں کو جو لغت اور محاورہ قرآن کے لحاظ سے ثابت ہیں محدود کر سکیں۔لغت کے لحاظ سے کافر کے معنے انکار کرنے والے کے ہوتے ہیں اور اس میں مشرک یا غیر مشرک۔مکی یا غیر مکی کا کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا۔ہرشخص جو کسی بات کا انکار کرے کافر کہلائے گا۔اور اَلْکٰفِرُوْن سے مراد وہ تمام کے تما م لوگ ہوں گے جو منکرین میں شامل ہوں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زبان عربی کے محاورہ کے مطابق بلکہ قریباً ہر زبان کے محاورہ کے مطابق کبھی الفاظ بظاہر حد بندی ظاہر کرتے ہیں لیکن معنوں میں عمومیت ہوتی ہے اور کبھی الفاظ عمومیت ظاہر کرتے ہیں لیکن معنوں میں محدودیت ہوتی ہے اور یہ طریق استعمال اختصار کی وجہ سے اختیار کیاجاتا ہے مثلاً کبھی ہم کسی ایک شخص کو ذہن میں رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شریر ہمیشہ سزا پاتا ہے۔ہمارے لفظ عام ہوتے ہیں لیکن مراد کوئی خاص شخص ہوتا ہے۔اسی طرح کبھی ہم کسی جھوٹے کو مخاطب کر کے یہ کہتے ہیں کہ تم نے جھوٹ بولا ہے اب تم ذلیل ہو جاؤ گے۔لیکن مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ ہر جھوٹ بولنے والا ذلیل ہوتا ہے اس لئے وہ بھی ذلیل ہو جائے گا۔پس مخصوص کو عام کر دینا اور عام کو مخصوص کر دینا یہ ایک ایسا قاعدہ ہے جو قریباً ہر زبان میں استعمال ہوتا ہے۔بلکہ یہ زبان کا ایک لازمی حصہ ہے اگر اس طریق کو استعمال نہ کیاجائے تو بعض چھوٹے چھوٹے مضمونوں کے لئے بڑے بڑے فقرے اور بڑی بڑی عبارتیں استعمال کرنی پڑیں۔بے شک غلط فہمی کا امکان ہو سکتا ہے لیکن عبار ت کا سیا ق وسباق یا کلام کا موقعہ اور محل غلطی کے امکان کو دور کر دیتا ہے۔قرآن کریم میں بھی یہ طریق استعمال کیا گیا ہے لیکن اصول فقہ کے علماء نے عام اصول یہ رکھا ہے کہ گو عام الفاظ سے خاص جماعت بھی مراد ہو سکتی ہے اور خاص جماعت سے عام جماعت بھی مراد ہو سکتی ہے لیکن غالب قاعدہ یہ ہو گا کہ عمومیت کو خصوصیت کے اوپر فائق سمجھا جائے گا۔یعنی جب ایک مضمون عام ہے تو مخصوص الفاظ کی وجہ سے اس کو مخصوص جماعت کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جائے گا بلکہ باوجود مخصوص الفاظ کے اس کے مضمون کو عام قرار دیا جائے گا اور اس سے دلیل پکڑی جائے گی۔لیکن عام الفاظ کو مخصوص کرنے کے لئے نہایت واضح قرینہ قویہ کی ضرورت ہوگی اور بغیر کسی زبردست دلیل کے اس عام مضمون کو محدود نہیں کیا جا سکے گا۔چنانچہ علامہ سیوطی اپنی کتاب اتقان میں لکھتے ہیں کہ اِخْتَلَفَ اَھْلُ الْاُصُوْلِ ھَلِ الْعِبْرَۃُ بِعُمُوْمِ اللَّفْظِ۔اَوْ بِـخُصُوْصِ السَّبَبِ وَالْاَصَـحُّ عِنْدَنَا الْاَوَّلُ۔(الاتقان النوع التاسـع معرفۃ سبب النزول ) یعنی اصول فقہ کے علماء نے اس بارہ میں