تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 219
علامہ آلوسی اپنی کتاب تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں قَالَ اَجَلَّۃُ الْمُفَسِّـرِیْنَ اَلْمُرَادُ بِـھِمْ کَفَرَۃٌ مِّنْ قُرَیْشٍ مَـخْصُوْصُوْنَ قَدْ عَلِمَ اللہُ تَعَالٰی اَنَّـھُمْ لَا یَتَاَتّٰی مِنْـھُمُ الْاِیْـمَانُ اَبَدًا۔یعنی تمام بڑے مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں اَلْکَافِرُوْنَ سے مراد قریش کے وہ کافر ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ وہ کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔علامہ قرطبی اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں لکھتے ہیں الف لام یہاں معہود ذہنی کے لئے آیا ہے یعنی ایسے کفار جن کا ذکر ذہن میں موجود ہے اور اگر اس کو جنس کے لئے سمجھا جائے تب بھی اس سے مراد یہ ہے کہ وہ کفار جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ کافر ہی مریں گے۔پس یہ مخصوص معنوں پر دلالت کرتا ہے جس کا ذکر عام الفاظ میں آیا ہے۔(تعارف سورۃ الکافرون) ماوردی نے بھی لکھا ہے کہ عُـنِیَ بِالْکٰـفِـرِیْنَ قَوْمًا مُعَیِّنِیْنَ لَا جَـمِیْعَ الْکٰفِرِیْنَ۔یعنی اَلْکٰفِرِیْنَ کے لفظ سے ایک معین جماعت مراد ہے نہ کہ سارے کفار۔لِاَنَّ مِنْـھُمْ مَنْ اٰمَنَ فَعَبَدَ اللہَ کیونکہ ان کفار میں سے بعض ایمان بھی لے آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی وَ مِنْـھُمْ مَنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ عَلٰی کُفْرِہٖ اور ان میں سے بعض ایسے تھے جومر گئے یا کفر کی حالت میں قتل کئے گئے اور وہی اس قول يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے مخاطب ہیں۔(تفسیر القرطبی تعارف سورۃ الکافرون) علامہ زمخشری اپنی تفسیر کشّاف میں لکھتے ہیں۔اَلْمُخَاطَبُوْنَ کَفَرَۃٌ مَّـخْصُوْصَۃٌ قَدْ عَلِمَ اللّٰہُ مِنْـھُمْ اَنَّـھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۔مخاطب اس آیت کے چند مخصوص کفار ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہو گیا تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔(اَلْکَافِرُوْنَ آیت ۱) علامہ محمد ابن حیّان اپنی تفسیر البحر المحیط میں لکھتے ہیں وَالْکٰفِرُوْنَ نَاسٌ مَّـخْصُوْصُوْنَ اور کفار سے اس جگہ پر مراد کچھ مخصوص لوگ ہیں جنہوں نے آ پ سے سوالات کئے تھے۔(سورۃ الکافرون) ان حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مفسرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین مکہ کے متعلق ہے اور مشرکین مکہ بھی سارے کے سارے مخاطب نہیں بلکہ ان میں سے ایک خاص جماعت مخاطب تھی جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوالات کئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خاص دلالتوں کی وجہ سے یا سیاق و سباق کی وجہ سے ایک عام لفظ کو خاص معنوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور قرآن کریم میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔لیکن بلاوجہ ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ اس کے یہ معنے ہو جاتے ہیں کہ ہم قرآن کریم کے معنوں کومحدود کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں