تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 213
نولڈکے کا یہ خیال اس حد تک ٹھیک ہے کہ کسی مذہب کے ابتدائی زمانہ میں چونکہ اس کے پیش کردہ خیالات کی جدت کی وجہ سے اس کے منکرین اس کی حقیقت کو پوری طرح نہیں سمجھتے اس لئے اس مذہب کے متعلق بحث محض سطحی ہوتی ہے۔آہستہ آہستہ تبادلہ خیالات کے بعد نئے مذہب کے ماننے والے بھی اپنی باتوں کو ایک معین صورت میں پیش کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور مخالفین بھی اپنے پراگندہ خیالات کو ایک معین صورت دے دیتے ہیں۔پس ایک جدید تحریک جو ایک سابقہ شکستہ تحریک کی جگہ لینے کے لئے پیدا ہوتی ہے اس کے اعلان کے چند سال بعد لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ زیادہ معین اور مشخص صورت میں دونوں قسم کے خیالات کا جائزہ لے سکیں اور اندازہ کر سکیں۔اور چونکہ اس سورۃ میں ایک قطعی چیلنج اپنے مخالفین کو دیا گیا ہے۔اس لئے نولڈکے اس اندرونی شہادت کی بنا پر یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ یہ سورۃ پہلے دور کے آخری زمانہ کی ہے۔ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم کا نزول حالات کے تابع نہیں بلکہ وہ تو اصولی ضرورت کو دیکھتا ہے۔بدیوں کا ردّ کرتا ہے اور نیکیوں کی تفصیل بیان کرتا ہے۔لیکن باوجود اس خیال کے ظاہر کرنے کے ہم اس سورۃ کے متعلق تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں کہ جہاں تک اس کے چیلنج کا سوال ہے وہ اسی وقت دیا گیا ہو جبکہ اسلام کے مخالف اس چیلنج کو قبول کرنے اور سمجھنے کے قابل ہو گئے ہوں۔پس اس سورۃ کے متعلق ہمیں اس بات کے تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ نولڈکے کے خیال کے مطابق اگر تاریخ کی شہادت اس کے خلاف نہ ہو تو یہ سورۃ چوتھے سال کے شروع میں یا اس سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہو۔کیونکہ وہی وقت تھا جبکہ مخالف اسلام کے دعویٰ کو ایک معین صورت میں اپنے ذہنوں میں لانے کے قابل ہو گئے اور اس کے مقابلہ میں اپنے مذہب کے بھی کوئی معین اصول انہوں نے طے کر لئے اور اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر کسی نہ کسی رنگ میں اس سے صلح کرنے کا خیال ان کے دلوں میں پیدا ہونے لگا(گو جیسا کہ ہم آگے چل کر بتائیں گے اس سورۃ کا صرف اتنا ہی مضمون نہیں ہے بلکہ اس سورۃ میں بہت زیادہ وسیع مطالب پائے جاتے ہیں۔مگر یہ بعید نہیں کہ اس کے ایک مضمون کی وجہ سے اس کے مناسب ِ حال وقت پر اس سورۃ کا نزول ہو گیا ہو)بہرحال نولڈکے مستشرقین میں سے ایک بہت بڑی اہمیت رکھنے والا شخص ہے بلکہ مستشرقین کا سردار سمجھاجاتا ہے۔پس مستشرقین کو اس بات کے ماننے سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ان کی اپنی جماعت کے اصول کے مطابق یہ سورۃ چوتھے یا حد سے حد پانچویں سال کے شروع میں نازل ہوئی ہے اور یہ امر تسلیم کرلینے کے بعد سورہ ٔ نجم کے متعلق جو روایات وہ نقل کرتے ہیں ان کی تردید آپ ہی آپ ہو جاتی ہے۔کیونکہ سورہ ٔ نجم پانچویں سال یا اس کے بعد کی ہے۔پس لازماً سورہ ٔ کافرون اس سے پہلے کی ہے۔اور اگر سورۃ نجم سورہ ٔ کافرون